سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
طاقت کابیانیہ جب حدسے بڑھ جائے تووہ اپنے بوجھ تلے دب جاتاہے۔اسرائیل کی سخت گیرپالیسیاں دراصل اپنی ساکھ بحال کرنے کی ایک کوشش تھیں،مگرتاریخ نے بارہاثابت کیاہے کہ طاقت کازعم اکثرتدبرکی کمی کوچھپانہیں سکتا۔یہی کچھ اسرائیلی حکمت عملی کے ساتھ ہوا،جہاں عسکری برتری کوسفارتی تدبرپرفوقیت دی گئی اورنتیجہ ایک پیچیدہ بحران کی صورت میں نکلا۔تاہم اب بھی اسرائیلی حکمت عملی میں عسکریت پسندی پرحدسے زیادہ انحصارکے سفارتی امکانات محدودہیں۔یہ صورت حال سیکیورٹی مخمصہ کی مثال بھی ہوسکتی ہے، جہاں ایک فریق کی سکیورٹی کی کوششیں دوسرے کیلئے خطرہ بن جاتی ہیں۔
ایران کی قیادت نے ماضی میں جس احتیاط کامظاہرہ کیاتھا،وہ دراصل ایک طویل المدتی حکمت عملی کاحصہ تھا۔ایران ہمیشہ آبنائے ہرمزکی اہمیت سے آگاہ تھا،مگرعلی خامنہ ای نے احتیاط کادامن تھامے رکھا۔ان کی بصیرت نے اس ہتھیارکو استعمال سے روکے رکھا مگرحالات نے جب کروٹ لی تواسی حکمت عملی کونئے اندازمیں بروئے کارلایاگیااوریوں ایک پوشیدہ قوت کھل کرسامنے آئی۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمزکوبطورہتھیاراستعمال کرنااس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ریاستیں غیرروایتی ذرائع کوبھی طاقت کے اظہار کیلئے استعمال کرسکتی ہیں۔
قیادت کی تبدیلی کے بعدپالیسی میں آنے والی تبدیلیاں اس بات کوظاہرکرتی ہیں کہ داخلی سیاسی حرکیات خارجی پالیسی پرگہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔مگرجب قیادت کاچراغ گل ہواتوجانشینوں نے حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے آبنائے ہرمزکوبندکرنے میں تامل نہ کیا ۔ یہ فیصلہ ان کیلئے بقاکی جنگ کاتقاضاتھا۔قیادت کی تبدیلی نے پالیسی کے مزاج کوبھی بدل دیا۔نئے فیصلہ سازوں نے خطرے کوموقع میں بدلنے کی کوشش کی،اوریہی وہ موڑتھاجہاں جنگ کارخ تبدیل ہوا۔
توانائی کی گزرگاہوں پرکنٹرول نے مستقبل کی جنگوں کی نوعیت کوتبدیل کرنے کے امکانات کوجنم دیاہے،جہاں اقتصادی اورجغرافیائی عوامل مرکزی کرداراداکریں گے۔یوں ایران نے دریافت کیاکہ عالمی معیشت کی نبض پرہاتھ رکھناکسی بھی عسکری اتحادسے زیادہ مؤثر ہوسکتاہے،ایک سستامگرکاری ہتھیاراورمستقبل کی جنگوں کی نوعیت پرگہرے اثرات مرتب
کرے گا۔اب میدانِ جنگ صرف سرحدیں نہیں بلکہ تجارتی راستے بھی ہوں گے اورایران نے اس جنگی حکمت عملی سے بھرپورفائدہ اٹھایاجوبالآخر ان کی کامیابی کاسبب بنا۔
خطے میں ایران کے علاقائی اتحادی اگرچہ کمزورہوئے ہیں،مگران کاوجودبرقراررہنااب بھی ایک حقیقت ہے۔یہ حقیقت اس امرکی غماز ہے کہ نظریاتی اتحادمحض عسکری دباسے ختم نہیں کیے جاسکتے۔اگرچہ شام میں اسدحکومت کاخاتمہ ہوچکا،مگرایران کامزاحمتی محورابھی باقی ہے، زخم خوردہ سہی،مگرزندہ۔تاہم اس کی حقیقی قوت اب سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
جوہری پروگرام اس تنازعے کاسب سے حساس اورپوری کہانی کاایک ایساپہلوہے جوبیک وقت طاقت کے توازن اورعالمی عدم پھیلا ؤکے اصولوں کے درمیان کشمکش اورخطرہ کو ظاہرکرتاہے۔اس نے ایران کوعالمی سطح پرایک اہم کھلاڑی بنایا،مگراسی کے ساتھ اسے تصادم کے دہانے پربھی لاکھڑاکیا۔ایران کاجوہری پروگرام اب بھی اس کہانی کاایک اہم باب ہے۔اگرچہ اس کامقصد ہمیشہ پرامن قراردیا گیا،مگراس نے خطرے کی ایک ایسی فضاپیداکی جس نے جنگ کوجنم دیا۔
عسکری کامیابیاں اکثروقتی ہوتی ہیں،جبکہ سٹریٹجک نتائج دیرپا۔امریکااوراسرائیل کی کارروائیاں اسی تضادکی مثال ہیںجہاں میدان میں کامیابی،مگرمقصدمیں ناکامی نظرآئی۔ امریکااوراسرائیل کی عسکری کامیابیاں سٹریٹجک ناکامی کونہیں روک سکیں،جواس بات کی دلیل ہے کہ میدانِ جنگ میں کامیابی ہمیشہ سیاسی مقاصدکے حصول کی ضمانت نہیں ہوتی۔ امریکااوراسرائیل کی فضائی قوت نے وقتی کامیابیاں ضرورحاصل کیں،مگروہ ایک سٹریٹجک ناکامی کونہ روک سکیں۔حکومت کی تبدیلی کاخواب سادہ مفروضوں کی نذرہوگیا۔
ایرانی نظام،اپنی تمام ترخامیوں کے باوجود،نظریے،مذہب اورقومی بقاکے تصورپرقائم ہے،ایک ایساتصورجوعراق جنگ کے شعلوں میں پروان چڑھا۔یہ نظام اس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ نظریاتی اورمذہبی بنیادیں ریاستی استحکام میں اہم کرداراداکرتی ہیں،خاص طور پرجب وہ قومی شناخت سے جڑی ہوں۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ نظریاتی بنیادیں، چاہے متنازع ہی کیوں نہ ہوں،ریاست کوایک خاص نوع کی پائیداری عطاکرتی ہیں۔یہی پائیداری اسے بیرونی دباؤکے سامنے جھکنے سے روکتی ہے۔
سیاسی بیانات اورعملی نتائج کے درمیان فرق اس بات کوظاہرکرتاہے کہ قیادت کے دعوے اکثرزمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ سیاسی قیادت کے بیانات اکثرجذباتی ہوتے ہیں،مگرتاریخ انہیں عملی نتائج کی کسوٹی پرپرکھتی ہے۔اس جنگ میں بھی یہی ہواالفاظ بلند تھے،مگرنتائج مختلف۔ٹرمپ کے بیانات حکومت کے خاتمے کی پیش گوئیاں اورغیر مشروط ہتھیارڈالنے کے مطالباتوقت کی گرد میں گم ہوگئے۔مذہبی وتاریخی استعاروں کااستعمال اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ یہ تنازعہ محض سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی اورفکری جہتیں بھی رکھتا ہے مگرجب عمل کاوقت آیاتویہ استعارے حقیقت کا بوجھ نہ اٹھاسکے۔یہی وجہ ہے کہ عملی سطح پریہ بیانیے پالیسی کی کامیابی کی ضمانت نہ بن سکے۔مذہبی وتاریخی بیانیے کا استعمال اس تنازعے کوایک تہذیبی رنگ دیتاہے،نیتن یاہونے بائبل کی زبان میں اس جنگ کوبیان کیا،مگرنہ وہ اپنے خواب کی تعبیرپاسکااور نہ ہی ٹرمپ اپنی خواہش کی تکمیل کرسکا۔
یہ مفاہمتی یادداشت کوئی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک دروازہ ہیاس بڑے سوال کی طرف جوایران کے جوہری پروگرام سے جڑاہے۔ تاہم مفاہمتی یادداشت دراصل ایک عبوری پل ہیایک ایساپل جودومتضاد بیانیوں کووقتی طورپرجوڑتاہے،مگراس کی مضبوطی آئندہ مذاکرات پرمنحصرہے۔اس لئے مفاہمتی یادداشت کوایک عبوری معاہدہ سمجھناچاہیے،جواصل مسئلے یعنی جوہری پروگرام کے حل کی طرف ایک ابتدائی قدم ہے۔
اعتمادکافقدان یااعتبارکی کمی اس پورے عمل کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔جوکسی بھی معاہدے کی پائیداری کومتاثرکرسکتی ہے۔جب تک یہ خلیج برقرارہے،ہرمعاہدہ غیریقینی کے سائے میں رہے گاکیونکہ آنے والے ساٹھ دن مذاکرات کیلئے فیصلہ کن ہوں گے،مگر بداعتمادی کی فضا میں ہرقدم خطرے سے خالی نہیں۔نیتن یاہوجیسے شدت پسندعناصراس عمل کو ناکام بنانے کے درپے ہیں۔
ایران کیلئے سب سے بڑا چیلنج توازن برقراررکھناہے ،ایک طرف معاشی بہتری کی خواہش،اوردوسری طرف نظریاتی مؤقف کی پاسداری ایک بڑاچیلنج ہوگا۔یہ توازن ہی اس کی آئندہ پالیسی کی سمت متعین اوراس کے مستقبل کافیصلہ کرے گا۔ایران اگراپنی شرائط میں سختی دکھاتاہے تووہ ان معاشی فوائدکوکھوسکتاہے جواس کی کمزورمعیشت کیلئے سہارابن سکتے ہیں۔تاہم،یہ معاہدہ اس جنگ سے کہیں بہترہے جس نے دنیاکوکسادبازاری کے دہانے پرلاکھڑاکیا۔
اگرمذاکرات کامیاب ہوئے تونہ صرف مشرقِ وسطی میں طاقت کاتوازن تبدیل ہوسکتاہے بلکہ تقدیربدل سکتی ہے اوریہ خطہ ایک نئے دورمیں داخل ہوسکتاہے ایک ایسادورجہاں تصادم کی جگہ تعاون لے لے مگراس کیلئے طویل المدتی سفارتی کوششیں اورباہمی اعتماد کی بحالی ناگزیرہوگی۔تاریخ کی روشنی میں یہ امیدایک نازک شمع کی مانندہے،جسے ذراسی ہوا بھی بجھاسکتی ہے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ’’اگر‘‘کاپل صراط سب سے دشوارہوتاہے۔
یہ تنا زعہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ جدیدعالمی سیاست میں طاقت کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔عسکری قوت اب بھی اہم ہے،مگر اقتصادی،جغرافیائی اورنظریاتی عوامل اس کے ساتھ مل کرایک پیچیدہ توازن پیداکرتے ہیں۔اس لیے کسی بھی تنازعے کاتجزیہ محض ایک زاویے سے نہیں بلکہ کثیرجہتی تناظرمیں کرناناگزیرہے۔یہ داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جنگیں صرف میدان میں نہیں ہاری جاتیں، بلکہ بعض اوقات وہ ذہنوں کے اندیشوں اورفیصلوں کی لغزش میں پہلے ہی ہاردی جاتی ہیں۔اورپھرصلح کے کاغذپرلکھاہرلفظ،ایک ان کہی شکست کااعتراف بن جاتاہے۔
یہ جنگ محض باروداوربارشِ آتش کی داستان نہیں،بلکہ انسانی فیصلوں،سیاسی غلطیوں اورتاریخی جبر کی ایک ایسی حکایت ہے جس کا سب سے گہرا سوال یہی ہے:
’’جب انجام وہی تھا تو آغاز کیوں ہوا؟‘‘