قاسم علی
پانی صرف زندگی کی بنیادی ضرورت نہیں، ریاستوں کی بقا، معیشت، زراعت، خوراک اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بھی ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے دریاؤں کا پانی محض قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بنیادی جزو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس کے پانیوں کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان محض ایک تکنیکی یا سفارتی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے
31 اگست 2026ء کا دن اسی تناظر میں پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے بنیادی مؤقف کو تقویت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 1960ء میں طے پانے والا یہ معاہدہ بدستور نافذالعمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کرسکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بھارت کے پاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے قابلِ قبول قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ (Reuters)یہ فیصلہ پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ گزشتہ عرصے میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اعلان نے خطے میں پانی کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کیے تھے۔ پاکستان کا مؤقف مسلسل یہ رہا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے کسی بین الاقوامی معاہدے کو معطل نہیں کرسکتا، خصوصاً ایسا معاہدہ جو کئی دہائیوں سے دو ریاستوں کے درمیان دریائی پانیوں کی تقسیم کا بنیادی قانونی فریم ورک چلا رہا ہو۔سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں عالمی بینک کی معاونت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے استعمال کے لیے مختص کیے گئے جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے۔ یہی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں، سیاسی کشیدگیوں اور انتہائی مشکل سفارتی ادوار کے باوجود قائم رہا۔یہ حقیقت اپنی جگہ حیران کن ہے کہ پاکستان اور بھارت نے گزشتہ چھ دہائیوں میں کئی مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑی، تعلقات شدید ترین بحرانوں کا شکار ہوئے، سرحدوں پر کشیدگی بڑھی، لیکن سندھ طاس معاہدہ اپنی جگہ موجود رہا۔ یہی اس معاہدے کی اہمیت اور مضبوطی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔بھارت کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش اسی لیے ایک غیر معمولی قدم تھا۔ پاکستان نے طاقت کے جواب میں طاقت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے قانونی اور سفارتی راستہ اپنایا۔ آج عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ اس حکمت عملی کے لیے ایک اہم اخلاقی اور قانونی تقویت بن کر سامنے آیا ہے۔یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے۔ عالمی عدالت یا ثالثی فورم کا فیصلہ صرف ایک ملک کی فتح یا دوسرے ملک کی شکست کا نام نہیں۔ اصل کامیابی اس اصول کی ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کو ریاستیں اپنی سیاسی خواہش کے مطابق جب چاہیں ختم یا معطل نہیں کرسکتیں۔ اگر آج ایک ملک کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرسکتا ہے تو کل دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ غیر محفوظ ہوسکتا ہے۔اسی لیے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں آنے والا فیصلہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے لیے بھی اہم ہے۔پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جغرافیائی طاقت کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی ملک کو کسی منصوبے، ڈیم یا پانی کے استعمال کے طریقہ کار پر اعتراض ہو تو اس کے لیے معاہدے میں موجود قانونی راستے اختیار کیے جانے چاہئیں۔یہی سندھ طاس معاہدے کی اصل روح بھی ہے۔رتلے ہائیڈرو پاور منصوبے کے معاملے میں عدالت کی جانب سے عبوری اقدامات بھی اس تنازع کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ عدالت نے منصوبے کے بعض حصوں پر کام روکنے سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں جبکہ منصوبے کی معاہدے کے مطابق حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے غیر جانب دار ماہر کے عمل کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ Reuters کے مطابق اس حوالے سے عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کی حتمی پیش رفت جولائی 2027ء تک متوقع ہے۔ اس فیصلے کا سب سے بڑا سیاسی پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا مقدمہ قانون کی بنیاد پر لڑا۔ آج کی دنیا میں کسی بھی ریاست کی طاقت صرف اس کی فوج، معیشت یا آبادی سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنا مقدمہ کس انداز میں پیش کرتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ ایک سبق بھی ہے کہ عالمی سطح پر مضبوط قانونی اور سفارتی تیاری کسی بھی تنازع میں ملک کے مفادات کا مؤثر دفاع کرسکتی ہے۔تاہم اس کامیابی کو جذباتی نعروں تک محدود کرنا بھی مناسب نہیں۔ بھارت نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ثالثی عدالت کے دائر? اختیار پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس کے خودمختار فیصلوں یا جاری منصوبوں پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ (الجزیرہ)
اس لیے پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فیصلہ آ جانا منزل کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔اب اصل امتحان اس فیصلے کے قانونی اور سفارتی اثرات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کا ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری، عالمی بینک، متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک کے سامنے اپنا مقدمہ مسلسل اور مدلل انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت موجود تمام قانونی طریقہ کار کو فعال رکھا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں پانی کے معاملے کو کسی سیاسی تنازع کا یرغمال نہ بنایا جاسکے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف یہ نہیں کہ پانی کم ہوسکتا ہے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ پانی کو غیر یقینی بنا دیا جائے۔ ایک زرعی معیشت میں پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی پن فصلوں، خوراک، بجلی، روزگار اور ملکی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوسکتا ہے۔پاکستان کی تقریباً پوری زرعی معیشت دریائے سندھ کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ دراصل پاکستان کی غذائی سلامتی کا تحفظ بھی ہے۔ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی نے پانی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کبھی سیلاب، کبھی خشک سالی، کبھی غیر معمولی بارشیں اور کبھی گلیشیئرز کے پگھلنے کے انداز میں تبدیلی—یہ سب مستقبل میں پانی کی دستیابی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں دریاؤں کے پانی سے متعلق ایک مستحکم بین الاقوامی معاہدہ پاکستان کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے۔یہ فیصلہ ہمیں ایک اور سبق دیتا ہے: قومی مفادات کے معاملات پر سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن پانی کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، لیکن دریا کسی سیاسی جماعت کے نہیں ہوتے۔ سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے قومی وسائل ہیں اور ان سے وابستہ کروڑوں پاکستانیوں کا مستقبل کسی ایک حکومت کی مدت سے کہیں زیادہ طویل ہے۔اسی لیے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر پاکستان کو ایک مستقل قومی پالیسی بنانی چاہیے۔ ماہرینِ آب، قانونی ماہرین، سفارت کار، ماہرینِ ماحولیات اور زرعی ماہرین کو ایک مشترکہ حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ مسلسل، دستاویزی اور سائنسی بنیادوں پر پیش ہونا چاہیے۔یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اپنے اندر پانی کے استعمال کو بہتر بنائے۔ اگر ہم بیرونی سطح پر اپنے دریاؤں کے حقوق کی حفاظت چاہتے ہیں تو ہمیں اندرونی سطح پر بھی پانی کے ضیاع کو روکنا ہوگا۔ جدید آبپاشی نظام، پانی کے ذخیرے، ڈیمز، نہروں کی بہتری، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال کی روک تھام اور فصلوں کے بہتر انتخاب پر توجہ دینا ہوگی۔دنیا میں پانی آئندہ دہائیوں کا سب سے اہم جغرافیائی سیاسی مسئلہ بننے جا رہا ہے۔ تیل کے بعد پانی کو مستقبل کی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھی آبادی بڑھ رہی ہے، شہروں کا پھیلاؤ جاری ہے اور موسمیاتی تبدیلی پانی کے روایتی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدے کی اہمیت آنے والے وقت میں مزید بڑھے گی، کم نہیں ہوگی۔پاکستان کے لیے حالیہ فیصلہ ایک موقع بھی ہے۔ یہ موقع ہے کہ ہم پانی کے مسئلے کو صرف بھارت کے ساتھ تنازع کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے قومی ترقی کے بنیادی ایجنڈے میں شامل کریں۔ہمیں اپنے بچوں کو ایسا پاکستان دینا ہے جہاں پانی صرف ایک سیاسی خبر نہ ہو بلکہ محفوظ قومی اثاثہ ہو۔آج اگر عالمی ثالثی عدالت نے یہ اصول مضبوط کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اپنی جگہ قائم ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا تو پاکستان کو اس قانونی کامیابی کو مستقبل کی جامع آبی حکمت عملی میں تبدیل کرنا ہوگا۔یہ واقعی پاکستان کی بڑی سفارتی اور قانونی کامیابی ہے، لیکن اس کامیابی کا اصل فائدہ تب ہوگا جب ہم اسے قومی مفاد کے مستقل تحفظ میں تبدیل کریں گے۔پانی کی جنگ صرف دریاؤں کے کنارے نہیں لڑی جاتی۔ یہ عدالتوں میں، سفارتی میزوں پر، عالمی اداروں میں، تحقیقی اداروں میں اور سب سے بڑھ کر قومی پالیسی کے ایوانوں میں لڑی جاتی ہے۔پاکستان نے دی ہیگ میں اپنے مؤقف کے حق میں ایک اہم قانونی پیش رفت حاصل کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد اس کامیابی کو دانش، تدبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھائے۔کیونکہ سندھ طاس کا پانی صرف آج کے پاکستان کا مسئلہ نہیں۔یہ آنے والی نسلوں کے پاکستان کا سوال ہے۔اور اس سوال کا جواب ہمیں آج ہی دینا ہوگا۔