اسرائیلی فورسز کی غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری، مزید 40فلسطینی شہید،متعددزخمی

حماس 5 سالہ جنگ بندی کی شرط پر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے تیار، غزہ مکمل طور پر قحط کی صورتحال کے قریب ہے، انسانی امداد کی ایجنسی 
 اسرائیلی فوج افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے، سابق اسرائیلی وزیراعظم ، تل ابیب میں جنگ بندی کے لیے مظاہرہ، نیتن یاہو کیخلاف نعرے بازی 
غزہ،تل ابیب (آئی این پی )اسرائیلی فورسز نے غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید 40 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔عرب میڈیا کے مطابق انسانی امداد کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج کی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ مکمل طور پر قحط کی صورتحال کے قریب ہے۔دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرت میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور تعمیر نو پر نکتہ نظر پیش کریں گے۔ حماس نے تنازع پر معاہدے کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غزہ میں 5 سال کے لیے وحشیانہ کارروائیوں روک دی جاتی ہیں تو اسرائیل کے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس ایک ہی دفعہ قیدیوں کے تبادلے اور 5 سال کی جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ تمام قیدیوں کی واپسی ہو اور حماس سمیت دیگر گروپس غیرمسلح ہو جائیں۔ادھر سابق اسرائیلی وزیراعظم نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے جبکہ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہزاروں افراد کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے مظاہرہ کیا گیا اور نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔