غزہ :اسرائیلی حملوں میں 3بچوں سمیت مزید 40فلسطینی شہید تل ابیب میں نیتن یاہو کیخلاف مظاہرہ

 شجاعیہ میں گھر پر بمباری سے 10فلسطینی شہید ، متعدد زخمی ہوگئے ،9ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار 
رفح میں بارودی سرنگ دھماکا، 2اسرائیلی فوجی ہلاک،اسرائیل میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا 
 غزہ ؍تل ابیب(آئی این پی ) غزہ میں24گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 3بچوں سمیت مزید 40فلسطینی شہید ہوگئے ، غذائی قلت سے ایک اور بچی چل بسی، فاقہ کشی سے اموات کی تعداد 57ہوگئی جبکہ 9ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی شجاعیہ میں گھر پر بمباری سے 10فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔دراج محلے میں شہریوں پر ڈرون حملے میں 4 اور زیتون میں 2 فلسطینی شہید ہوئے۔ خان یونس میں رہائشی مکان پر حملے میں 11 اموات ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپوں، خیموں اور گھروں کو نشانہ بنایا۔ادھر رفح میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔7 اکتوبر 2023 سے فلسطینی شہداء کی مجموعی تعداد 52 ہزار 495 تک پہنچ گئی۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے چاروں جانب سے محصور غزہ پر حملے تیز کرنے کیلئے ہزاروں ریزرو صیہونی فوجیوں کو طلب کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا جس کی کابینہ سے توثیق کر ائی جارہی ہے ۔دوسری جانب اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے نیتن یاہو حکومت سے غزہ میں جنگ بندی معاہدہ مکمل کرنے اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے ملک کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق 2 ماہ سے جاری اسرائیلی محاصرے سے غزہ میں غذائی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ غزہ شہر کے اسپتال میں غذائی کمی کا شکار بچی انتقال کرگئی۔غذائی قلت سے ہونے والی اموات کی تعداد 57 ہوگئی۔