پاکستان، ایران، چین اور روس کا افغانستان پر مشترکہ اعلامیہ جاری

پاکستان، ایران، چین اور روس کا افغانستان پر مشترکہ اعلامیہ جاری

پاکستان، چین، ایران اور روس نے افغانستان کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں چاروں ممالک نے واضح کیا کہ وہ افغانستان کو ایک آزاد، متحد اور پُرامن ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ اعلامیہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے چوتھے چار فریقی اجلاس کے بعد جاری کیا گیا، جو روس کی دعوت پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد ہوا۔اعلامیے میں چاروں ممالک نے افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کئی اہم نکات پر زور دیا:دہشت گردی، جنگ اور منشیات کا خاتمہ: اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک معاشرہ قائم کرنا خطے کے امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ افغان حکام پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کریں۔
معاشی و علاقائی تعاون: شرکاء نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور علاقائی تعاون، اقتصادی روابط اور معاشی استحکام کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انسانی ہمدردی اور پناہ گزین: اعلامیے میں کہا گیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری امداد کو برقرار رکھا جائے اور افغان پناہ گزینوں کی باعزت واپسی میں سہولت فراہم کی جائے۔
تعلیم و خواتین کے حقوق: اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ خواتین اور بچیوں کو تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع فراہم کیے بغیر افغانستان میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
پس منظر اور بین الاقوامی تناظر:
طالبان حکومت نے اگست 2021 میں افغانستان کا اقتدار سنبھالا، تاہم دنیا کے زیادہ تر ممالک نے تاحال ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ طالبان حکومت پر سب سے بڑا دباؤ خواتین کی تعلیم اور بنیادی حقوق کی بحالی سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ، خطے کے دیگر ممالک اور عالمی برادری طالبان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کریں اور ایسی حکومت قائم کریں جس میں تمام طبقات کی نمائندگی ہو۔