پنجاب پولیس کو ’’بے تاج بادشاہ‘‘ لکھنے والے مجسٹریٹ کا فوری تبادلہ

 عارفوالا(مانیٹرنگ ڈیسک)عارفوالا میں حال ہی میں ایک مجسٹریٹ نے پولیس کے خلاف ایک سخت فیصلہ لکھا ہے جس میں پولیس کے اختیارات پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ فیصلے کی کاپی کے مطابق عارفوالا کی عدالت میں مجسٹریٹ سیکشن 30 محمد اقبال کلیار نے پولیس کے اختیارات اور کردار پر سخت ریمارکس فیصلے کا حصہ بنائے ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق ملزم محمد جاوید ولد محمد اسحاق کو ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں اسے ایک اور مقدمے میں بھی نامزد کر دیا گیا۔پے در پے مقدمات میں ملوث کیے جانے پر مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ بے شک پولیس اس ملک میں ’کنگ ود آئوٹ کرائون‘(بیتاج بادشاہ)ہے۔ پولیس افسر لامحدود اختیارات کے مزے لے رہے ہیں جن پر کوئی قابو نہیں۔ یہ قانون کی بالادستی پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ محکمہ پولیس خود کو سپریم تصور کرتا ہیاور اس قدر بے قابو ہو چکا ہے کہ اکثر پولیس افسر ٹک ٹاکرز، قبضہ مافیا اور دیگر سماجی برائیوں کے حمایتی یا مددگار ہیں۔فیصلے میں تفتیشی افسر کے عمل کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو جیل بھیجنے اور رپورٹ 6 اکتوبر 2025 کو طلب کرنے کا حکم دیا۔تاہم دلچسپ بات یہ ہوئی ہے کہ اس فیصلے کے ایک روز بعد ہی مجسٹریٹ محمد اقبال کلیار کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ماتحت سول جج محمد اقبال کلیار کو عارفوالا سے ہٹا کر لاہور سول کورٹ میں آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی یعنی او ایس ڈی لگا دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ یہ تعیناتی ’عوامی مفاد‘ میں کی گئی ہے اور انہیں 24 ستمبر 2025 تک رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نوٹیفکیشن میں اس تبادلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔