وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہایت حوصلہ افزا رہی، امریکا نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ملاقات کے دوران معیشت، انسدادِ دہشت گردی، معدنیات، مصنوعی ذہانت (AI)، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور کرپٹو کرنسی جیسے موضوعات پر تفصیلی بات ہوئی۔ امریکا نے پاکستان کے ساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے صدر نے ٹیرف کے معاملے پر مثبت رویہ اختیار کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کے تعین سمیت تجارتی معاہدے باہمی مفادات کے تحت طے ہوں گے۔
بھارتی جارحیت پر پاکستانی افواج کی کامیابی کا ذکر
وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو میں 6 تا 10 مئی کے درمیانی عرصے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان چار دنوں میں افواج پاکستان نے بہادری اور قربانی کے ساتھ دشمن کو شکست دی۔ان کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دانشمندی سے افواج کو لیڈ کیا اور اس موقع پر کہا تھا کہ "ہم نے جنگ جیت لی ہے"۔ شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے دشمن کے 7 طیارے مار گرائے، مختلف محاذوں پر حملے کیے اور بالآخر بھارت کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔
سعودی عرب کا شاندار استقبال
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ سعودی عرب کے دورے کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ انہیں وہاں غیر معمولی عزت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40 سال میں اس طرح کا شاندار استقبال انہوں نے پہلی بار دیکھا۔
ملکی معیشت میں بہتری
شہباز شریف نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے وقت پاکستان سخت معاشی بحران سے دوچار تھا۔ مہنگائی کی شرح 32 فیصد تک پہنچ چکی تھی جبکہ پالیسی ریٹ ساڑھے 22 فیصد تھا۔ تاہم، ڈیڑھ سال کی محنت سے مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ تک لے آیا گیا ہے اور پالیسی ریٹ کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب ملک کی معیشت مائیکرو لیول پر مستحکم ہو چکی ہے، جس کے مثبت اثرات آئندہ برسوں میں نمایاں ہوں گے۔
اوورسیز پاکستانیوں کا کردار
وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو "عظیم سفیر" قرار دیا اور کہا کہ مالی سال 2024-25 میں اوورسیز پاکستانیوں نے ملک میں 38.5 ارب ڈالر بھیجے۔ ان ترسیلات زر نے معیشت کو سہارا دینے اور استحکام حاصل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔