مضبوط معیشت سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوگا شہبازشریف
حکومت برآمدات میں اضافے پر مبنی ملکی معاشی ترقی کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے ‘ کاروباری شخصیات و سرمایہ کار قابل احترام ہیں‘ طویل مدتی اقدامات کے ذریعے ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر اور مسابقتی بنایا جائے گا
نجی شعبے کے ماہرین کی تجاویز پر غور کرنے کے بعد انہیں قابل عمل بنانے کے لئے وزیر خزانہ کی صدارت میں کمیٹی قائم کی جائے گی جو عملی اقدامات پر مبنی لائحہ عمل پیش کرے گی:وزیراعظم کی اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد ( آ ن لائن ) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نجی شعبے کے ماہرین اور کاروباری شخصیات پر مبنی ٹیکس شعبے کی اصلاحات کے لیے ورکنگ گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ورکنگ گروپ کے چیئرمین شہزاد سلیم سمیت دیگر ممبران بھی اجلاس میں موجود تھے۔وزیرِ اعظم نے کہا حکومت برآمدات میں اضافے پر مبنی ملکی معاشی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور کاروباری شخصیات و سرمایہ کار قابل احترام ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کاروبار اور مضبوط معیشت ہی سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوگا اور طویل مدتی اقدامات کے ذریعے ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر اور مسابقتی بنایا جائے گا۔اجلاس میں نجی شعبے کے ماہرین کی جانب سے جامع تجاویز پیش کی گئیں، جن پر وزیرِ اعظم نے مشکور رہنے کا اظہار کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان تجاویز پر غور و خوض کے بعد انہیں قابل عمل بنانے کے لیے وزیر خزانہ کی صدارت میں کمیٹی قائم کی جائے گی، جو عملی اقدامات پر مبنی لائحہ عمل پیش کرے گی‘دریں اثناء وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کے توانائی اور قدرتی وسائل کے وزیر الپرسلان بیریکتر نے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے، وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور ترکیہ کے ساتھ بالخصوص توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے توانائی، پٹرولیم اور معدنیات کے شعبوں میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ترکش پیٹرولیم نے پاکستان میں تیل کی تلاش کے حوالے سے آف-شوراور آن-شور سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی ہے جو توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کی توانائی کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت بھی دی۔ دونوں رہنمائوں نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان کان کنی کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں کے تبادلے کا بھی مشاہدہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈییڈ آف اسائنمنٹ - ایسٹرن آف شور انڈس-سی، پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ زیارت نارتھ بلاک، پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ سکھ پور-II بلاک، پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ سکھ پور-II بلاک، ڈیپ ایف بلاک ای بلاک ڈیپ ایف بلاک اور ایف بلاک ڈیپ بلاک کا تبادلہ ہوا۔