ویب ڈیسک: سابق گلوکار و نعت خواں جنید جمشید کے بیٹے سیف اللہ جمشید نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد نے طیارہ حادثے سے چند ماہ قبل ہی شہادت کی دعا شروع کر دی تھی۔
سیف اللہ کے مطابق، ان کے والد تقریباً چھ سے آٹھ ماہ قبل اکثر والدہ سے کہا کرتے تھے کہ وہ اللہ سے شہادت کی دعا کر رہے ہیں اور اس کی قبولیت کا احساس ہوتا رہا۔ان کا کہنا ہے کہ والد کے انتقال کی خبر اچانک آئی کیونکہ وہ کسی بیماری میں مبتلا نہیں تھے، اور ان کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ اور سکون کی جھلک تھی۔سیف اللہ نے بتایا کہ حادثے کے بعد گھر والے تعزیت کے دوران بھی حقیقت سے لاعلم تھے۔ انہوں نے ایک بچپن کا واقعہ بھی شیئر کیا، جب ان کی والدہ نے موسیقی کی ایک پرانی تصویر دکھا کر پوچھا کہ یہ کون ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ “انکل”، جس پر والد نے مسکرا کر الحمدللہ کہا۔یاد رہے کہ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 48 افراد دسمبر 2016 میں چترال سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز حادثے کا شکار ہوئے تھے۔