گندم کا کاشتکار ڈپریشن کا شکار، ہم بات کرنے کو تیار، وزیر اعلیٰ نہیں چاہتیں: خالد کھوکھر

 کسان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ گندم کی لاگت کاشت کا اعلان کیا جائے، چیئرمین پاکستان کسان اتحاد
 لاہور(آئی این پی )پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین کھوکھر نے آئندہ سال اگلے سال گندم کی کاشت میں بہت بڑی کمی لانے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں گندم کا کاشتکار ڈپریشن کا شکار ہے، ہم بات کرنے کو تیار ہیں لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بات کرنا نہیں چاہتیں۔ گذشتہ روز لاہور پریس کلب میں پاکستان کسان اتحاد کے دیگر عہدیداروں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد حسین کھوکھر نے کہا کہ کسان اگلی فصل کہاں سے کاشت کریں گے؟، کسان کے لیے کوئی درد نہیں، کیا ہم گندم جلا دیں؟۔ خالد کھوکھر نے کہا کہ گندم کا مسئلہ ملکی مسئلہ ہے، بارڈر سکیورٹی دوسرا لیکن خوراک کا مسئلہ پہلے نمبر پر ہے، گندم کے کاشت کار کے گھر بچے اور صحت کے حالات خراب ہیں، پاکستان میں گندم کا کاشتکار ڈپریشن کا شکار ہے اور کاشتکار صرف اپنی محنت کی اجرت مانگ رہا ہے۔خالد کھوکھر نے کہا کہ کسان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ گندم کی لاگت کاشت کا اعلان کیا جائے، عالمی اصول ہے کہ لاگت میں 25 فیصد اضافہ کر کے ریٹ مقرر کیا جائے،3900روہے من گندم کا ریٹ مقرر کیا جائے کیوں کہ 3400روپے تو ہماری لاگت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر بات کرنے کو تیار ہیں مگر وزیراعلیٰ پنجاب بات کرنا نہیں چاہتیں، آج ملکی زراعت تباہ ہو رہی ہے اور کسان رو رہا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کسان تنظیموں سے نہ ملیں لیکن حقیقی کسانوں سے تو ملیں۔کسا ن رہنما نے کہا کہ گندم امپورٹ کر کے اربوں ڈالرز کمائے گئے لیکن کسی کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال گندم کی پیداوار میں بہت بڑی کمی آئے گی تو عوام پریشان ہوں گے، ہم تو مزدور اور کسان لوگ ہیں، لسی چٹنی کھالیں گے، لیکن عوام کیا کریں گے؟۔