اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے 10 روز سے لاپتا ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان تاحال بازیاب نہ ہو نے پرپولیس کو مغوی کی بازیابی کے لیے مزید ایک ہفتے کا وقت 31 اکتوبر کوختم ہوگا اور عدالت اس بارے مزید سماعت کرے گی۔سابقہ سماعت پر عدالت نے پولیس کو مغوی کا واٹس ایپ ریکارڈ کا ڈیٹا بھی چیک کرنے کا حکم دیاتھا۔ جسٹس اعظم خان نے ہدایت کی تھی کہ ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں پولیس مغوی کو بازیاب کروائے۔ اصل مقصد معاملہ حل کرنا ہے صرف تاریخیں دینا نہیں ہوتا۔ٹک ٹاکر ڈکی بھائی کیس کی تحقیقات کرنیوالے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت دیگر لوگ بھی لاپتا ہونے کا انکشاف ہوا ہے دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ لاپتا ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان کی اہلیہ روزینہ کا بھی پتا نہیں چل سکا ہے۔ وکیل رضوان عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کے بعد درخواست گزار روزینہ بھی لاپتا ہیں۔ جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا پیش رفت ہے، آپ کو 3 روز کا وقت دیا تھا کیس کی سماعت اگلے جمعے 31 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔