وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کوئی بھی انقلاب اتنی جلدی نہیں بھاگا جتنا کل کا احتجاج بھاگا۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی یا 24 نومبر کا احتجاج ناکام ہو چکا ہے، اور پی ٹی آئی پانچ بار احتجاج کی کال دے چکی ہے لیکن ہر بار یہ ناکام رہا۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں پنجاب سے عوام کی غیر موجودگی واضح تھی، اور بشریٰ بی بی گزشتہ رات احتجاج سے فرار ہو گئیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی کارکنوں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کی گاڑی کو کارکنوں نے آگ لگا دی۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے ہمیشہ سیاست سے علیحدگی کا دعویٰ کیا، لیکن کل وہ میاں صاحب کی رہائی کے لیے احتجاج میں شامل ہو گئیں۔ عظمیٰ بخاری نے یہ بھی بتایا کہ احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کی 22 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، اور پکڑے گئے افغان شہریوں کا ریکارڈ جلد عوام کے سامنے آ جائے گا۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے بچے بیرونِ ملک ہیں، جبکہ ان کے احتجاج میں عوام کے بچوں کو کھانا بھی میسر نہیں تھا، جو ان کی قیادت کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔