میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے میکسیکو سے درآمدی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
صدر شین بام نے کہا کہ اگر ٹرمپ نے یہ اقدام اٹھایا تو میکسیکو بھی امریکی مصنوعات پر اپنے ٹیرف عائد کرے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے اور مزید مہنگائی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔شین بام نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک میں افراطِ زر اور ملازمتوں میں کمی کا باعث بنیں گے، اور یہ ایک مسلسل سلسلہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی پیشکش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اور ٹرمپ کی آنے والی انتظامیہ جلد ملاقات کر سکیں گے۔
مزید برآں، شین بام نے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کریں گی اور کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کو ایک خط بھی بھیجیں گی تاکہ اس معاملے پر بات کی جا سکے۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز میکسیکو، کینیڈا اور چین سے آنے والی اشیاء پر بھاری ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 20 جنوری کو وہ میکسیکو اور کینیڈا سے آنے والی تمام اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے دستاویزات پر دستخط کریں گے، اور یہ ٹیرف اس وقت تک نافذ رہیں گے جب تک منشیات اور غیر قانونی تارکینِ وطن کا داخلہ بند نہیں ہوتا۔