واشنگٹن: امریکا نے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو آج سے مؤثر ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر بھی اضافی محصولات عائد کیے جا رہے ہیں۔امریکی صدر نے اس حوالے سے کہا کہ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں اور تجارتی ڈیل کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے، جس کے باعث 2025 میں پہلی بار ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں ایک دن میں 1.8 فیصد کمی دیکھی گئی۔عالمی منڈیوں میں بھی اس فیصلے کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں کمی واقع ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق، اس صورتحال سے عالمی اقتصادی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے اس اقدام سے شمالی امریکی تجارتی تعلقات پر گہرا اثر پڑے گا، جبکہ چین کے ساتھ پہلے سے جاری معاشی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔