خون اور پانی ساتھ نہیں بہہ سکتے، امریکی ٹیرف دھمکی پر مودی کا جارحانہ ردِعمل

خون اور پانی ساتھ نہیں بہہ سکتے، امریکی ٹیرف دھمکی پر مودی کا جارحانہ ردِعمل

نئی دہلی:بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی خود انحصاری اور اندرونی طاقت پر انحصار کرنے کی پالیسی کو نئی سمت دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے پر بھارت کو سخت تجارتی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کو بدلتے ہوئے عالمی حالات میں کسی بیرونی دباؤ کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’خون اور پانی ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘، اور یہ کہ بھارتی مفادات کو کسی بھی عالمی طاقت کے آگے قربان نہیں کیا جائے گا۔وزیراعظم نے توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خود انحصاری کے نئے اہداف پیش کرتے ہوئے کہا کہ:بھارت آئندہ دہائی میں سیمی کنڈکٹر چپس، لڑاکا طیاروں کے انجن، فوجی ساز و سامان اور اسپیس اسٹیشن کی تیاری کرے گا۔دفاعی شیلڈ کے منصوبے پر بھی کام شروع کیا جائے گا تاکہ بھارت اپنی سرحدوں کے تحفظ میں بیرونی انحصار سے آزاد ہوسکے۔
زرعی شعبے میں کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔مودی نے کہا کہ خود انحصاری ہی ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد ہے، اور اسی کے ذریعے عالمی اقتصادی خود غرضی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے روس سے تیل کی خریداری بند نہ کرنے پر بھارت کو 27 اگست سے درآمدی ٹیرف میں 25 سے 50 فیصد اضافہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس اقدام کو بھارتی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مودی نے اسے سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے ملکی مفاد کو اولین ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔