عمران خان سے ملاقات کی کوشش پر علی محمد خان اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ

عمران خان سے ملاقات کی کوشش پر علی محمد خان اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ

راولپنڈی میں داہگل ناکے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان اور پولیس افسران کے درمیان تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا۔

 یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب علی محمد خان اور دیگر پارٹی رہنما اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے، تاہم پولیس نے انہیں ناکے پر روک دیا۔علی محمد خان نے پولیس سے استفسار کیا کہ وہ رکن قومی اسمبلی ہیں اور پولیس کے پاس انہیں روکنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے ایس ایچ او سے مطالبہ کیا کہ اگر پنجاب حکومت کی جانب سے کوئی تحریری حکم موجود ہے تو وہ پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا آئی جی پنجاب یا سیکریٹری داخلہ نے انہیں روکنے کا حکم دیا ہے؟اسی روز عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی، عظمیٰ خان اور کزن قاسم خان کو بھی گورکھپور ناکے پر روک دیا گیا، جس پر ان کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی۔

 انہوں نے پیدل مارچ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل پہنچنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے انہیں جیل کے گیٹ نمبر پانچ کے قریب دوبارہ روک دیا۔ بعد ازاں، کچھ وکلاء کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی، تاہم ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جس پر وہ احتجاج کرتے ہوئے واپس روانہ ہو گئیں۔یہ واقعہ عدالتی احکامات کے باوجود پیش آیا، جس میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، لیکن پولیس کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔