بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کا مانک میا ایونیو آج ایک بار پھر میدانِ جنگ بن گیا، جہاں پولیس اور "جولائی کے جنگجوؤں" کے درمیان شدید تصادم ہوا۔
ذرائع کے مطابق تصادم اس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی بے دخلی کی تحریک سے منسلک "جولائی کے قومی چارٹر" پر دستخط کی تقریب کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ مظاہرین نے پولیس کی جانب سے لگائے گئے روڈ بلاکرز کو آگ لگا دی، جس کے باعث اس مرکزی شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے ایریگیشن بلڈنگ کے سامنے نصب تقریب کے خیموں کو بھی نذرِ آتش کر دیا، جہاں چارٹر پر دستخط ہونا تھے۔ آگ لگنے کے نتیجے میں فرنیچر اور سرامک ڈشز کی بڑی مقدار جل کر خاکستر ہو گئی۔حکام کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو مانک میا ایونیو سے ہٹا دیا ہے، اور اب اسد گیٹ کے مقام پر اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ دوسری جانب، مظاہرین نے اسد گیٹ کی دوسری سمت مورچے سنبھال لیے ہیں۔پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے ساؤنڈ گرنیڈ فائر کیے جا رہے ہیں تاکہ ہجوم کو منتشر کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مانک میا ایونیو فی الوقت پولیس کے مکمل کنٹرول میں ہے، تاہم "جولائی کے جنگجوؤں" کے دو گروپ اب بھی موجود ہیں — ایک گروپ آرونگ کی سمت جبکہ دوسرا خمار باری کی طرف موجود ہے۔یاد رہے کہ آج دوپہر ڈھاکہ کی نیشنل پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازہ میں “جولائی کے قومی چارٹر” پر دستخط ہونا طے ہے۔اس تقریب سے قبل ہی پارلیمنٹ کے اطراف کے علاقے میں کشیدگی پھیل چکی ہے، جبکہ مظاہرین تین نکات کے مطالبات پر قائم ہیں، جن میں:
جولائی کی بغاوت میں زخمی ہونے والے طلباء اور شہریوں کو ریاستی شناخت دینا،
ہیروز کے طور پر ان کے کردار کو تسلیم کرنا،
اور ریاستی سطح پر ان کی فلاح و بہبود کے اقدامات شامل ہیں۔
صورتحال فی الحال کشیدہ مگر قابو میں بتائی جا رہی ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔