لاچین (ویب ڈیسک): وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد اپنے چار ملکی سفارتی مشن کے تیسرے مرحلے میں آذربائیجان پہنچ گئے۔
وہ یہاں پاکستان-ترکیہ-آذربائیجان کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں باہمی تعاون، علاقائی سیکیورٹی، اور اقتصادی روابط پر تبادلہ خیال ہوگا۔
استقبال:
آذربائیجان کے شہر لاچین کے ہوائی اڈے پر وزیراعظم کا استقبال آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف، آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر قاسم محی الدین اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام نے کیا۔
اجلاس اور ملاقاتیں:
وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے دوران:
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان
اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف
سے ملاقات کریں گے۔
اس موقع پر وزیراعظم کی الہام علیوف کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی طے ہے، جس میں اقتصادی تعاون، تجارت، توانائی اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال ہوگا۔
وزیراعظم کے ہمراہ وفد:
وزیراعظم کے ہمراہ:
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ
اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
تہران سے روانگی:
آذربائیجان روانگی سے قبل، تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی، ایران میں پاکستان کے سفیر رضا امیری مقدم، اور پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو نے وزیراعظم کو رخصت کیا۔
ایران میں ملاقاتیں:
دورہ ایران کے دوران وزیراعظم نے:
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای
اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان
سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں:
تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط پر گفتگو ہوئی۔
بھارت کی جارحیت کے تناظر میں ایران کی امن کوششوں کو سراہا گیا۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
پاکستان-ایران مشترکہ مؤقف:
دونوں ممالک نے:
اسٹریٹجک تعلقات مضبوط بنانے
اور خطے میں امن و ترقی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے ایرانی قیادت کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان، ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
سفارتی مشن کا اگلا مرحلہ:
وزیراعظم کا یہ دورہ ان کے چار ملکی سفارتی مشن کا تیسرا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ تاجکستان روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ پاکستان کی فعال سفارت کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔