وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد نیویارک پہنچ گئے، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وزیراعظم اجلاس سے خطاب بھی کریں گے، جس میں وہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال پر مبذول کرائیں گے، خاص طور پر غزہ میں جاری انسانی بحران کو اجاگر کریں گے اور فلسطینی عوام کی تکالیف ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیں گے۔وزیراعظم اپنے خطاب میں علاقائی سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی جیسے اہم امور پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر مسلم رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی کریں گے۔ اجلاس کی تکمیل کے بعد ان کی دوبارہ لندن واپسی متوقع ہے، جہاں وہ اپنے بڑے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
ادھر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی نیویارک پہنچ چکے ہیں۔ ان کا شیڈول خاصا مصروف ہے، جس کے دوران وہ وزیراعظم کے ساتھ اہم اجلاسوں میں شریک ہونے کے علاوہ متعدد وزارتی اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے، جبکہ درجن سے زائد دوطرفہ ملاقاتوں کا بھی امکان ہے۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں اپنے دورے کے دوران طبی معائنہ کرایا، اوورسیز پاکستانی کنونشن سے خطاب کیا اور سرکاری و نجی ملاقاتیں بھی کیں۔