ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی امریکا آمد میں نمایاں کمی، ہوٹل بکنگ متاثر

ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی امریکا آمد میں نمایاں کمی، ہوٹل بکنگ متاثر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور سخت بیانات کے اثرات امریکا کی سیاحت پر بھی پڑنے لگے۔

جاپان، کینیڈا، میکسیکو اور جرمنی جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاحوں نے اس سال امریکا کا رُخ کم کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر ہوٹل انڈسٹری پر بھی پڑ رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، آن لائن ہوٹل بکنگ میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر ان ممالک سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں ڈبل ڈیجٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کمی کی بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ان ممالک پر عائد کردہ اضافی ٹیرف اور متنازع بیانات ہیں۔کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد ان ممالک سے امریکا آنے والے سیاحوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ ٹرمپ کے کینیڈا کو "51ویں امریکی ریاست" قرار دینے والے بیان نے بھی کینیڈین عوام کو نالاں کیا ہے، جس کے باعث وہاں سے امریکا کی سیاحت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

اس رجحان کی تصدیق حکومت اور ٹورازم آفس کے جاری کردہ اعداد و شمار سے بھی ہوتی ہے، جن کے مطابق رواں سال مارچ میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.6 فیصد کمی ہوئی ہے۔اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور سیاسی بیانات نے نہ صرف سیاحوں کی ترجیحات کو بدلا ہے بلکہ امریکا کی سیاحت سے جڑی معیشت پر بھی منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی اور برطانوی شہری بھی بیرونِ ملک کی بجائے مقامی سیاحتی مقامات کو ترجیح دے رہے ہیں۔