اسلام آباد: حکومت نے گیس کے شعبے کے 3 ہزار ارب روپے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سپرد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے دوران کیا گیا ہے تاکہ گیس سیکٹر میں مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔پیٹرولیم ڈویژن کی تیار کردہ اس اسکیم میں مختلف تجاویز شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد گیس کے شعبے کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے پر قابو پانا ہے، جو اب خطرناک حد تک 3000 ارب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس بحران کا حل نکالنے کے لیے ریاستی اداروں کے منافع کا استعمال کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے تاکہ اضافی مالی بوجھ عوام پر نہ پڑے۔آئی ایم ایف کو گیس کمپنیوں کی گزشتہ پانچ سال کی مالی کارکردگی، منافع و نقصان کے گوشوارے، بیلنس شیٹس اور دیگر مالیاتی دستاویزات فراہم کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات کی روشنی میں آئی ایم ایف وفد کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے گئے جن میں گیس کمپنیوں کے مالی ڈھانچے، حکومتی سبسڈی اور صارفین پر ممکنہ اثرات جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنا آئندہ پانچ سالوں میں ممکنہ ہدف ہے، جس کے لیے مسلسل اصلاحات اور سخت مالی نظم و ضبط کی ضرورت ہوگی۔ تاہم، آئی ایم ایف کی جانب سے اس منصوبے کی مکمل منظوری ابھی تک نہیں دی گئی، اور وزارت خزانہ اور متعلقہ حکام مذاکرات میں مسلسل سرگرم عمل ہیں۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ مذاکرات مرحلہ وار جاری ہیں اور ان کے نتائج آئندہ بجٹ کی سمت طے کریں گے، جس کا ملک کی معیشت اور توانائی کے شعبے پر گہرا اثر ہوگا۔