ٹرانسفر ججز کے بنیادی اصول اور طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے گئے:سپریم کورٹ

ٹرانسفر ججز کے بنیادی اصول اور طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے گئے:سپریم کورٹ

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی سنیارٹی کیس کی سماعت جاری ہے، جس میں جسٹس نعیم افغان نے ٹرانسفر ججز کے لیے بنیادی اصولوں پر سوالات اٹھائے۔

 5 رکنی بینچ کی سماعت میں اٹارنی جنرل پاکستان نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی نئی تقرری نہیں ہوئی بلکہ ججز ٹرانسفر ہوئے ہیں، اس لیے نئے حلف کی ضرورت نہیں، اور سنیارٹی تقرری کے دن سے شروع ہوگی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ججز کی سنیارٹی کا تعین سابق چیف جسٹس عامر فاروق نے کیا، اور 4 ہائیکورٹ چیف جسٹسز و رجسٹرار کی رپورٹ میں ججز کے تبادلے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔جسٹس شکیل احمد نے سیکرٹری لاء کی وضاحت پر سوال اٹھایا کہ ٹرانسفر ججز نے حلف کیوں نہیں اٹھایا، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وضاحت اس لیے دی گئی تاکہ نوٹیفکیشن میں ابہام نہ رہے۔

عدالت میں بحث ہوئی کہ ججز کی سنیارٹی کس اصول کے تحت طے کی گئی، خاص طور پر جسٹس ڈوگر کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی کے حوالے سے۔ اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ جج کے ایڈیشنل جج کے طور پر حلف اٹھانے سے سنیارٹی شروع ہوتی ہے اور ہر ہائی کورٹ خود ججز کی سنیارٹی کا تعین کرتا ہے۔جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ مستقل ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کا اختیار ہے، اور مستقل بنیادوں پر ججز کی ٹرانسفر سے جوڈیشل کمیشن کے اختیارات متاثر ہوسکتے ہیں۔