خواجہ خالد آفتاب
پنجاب میں خواتین کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا صوبے بھر میں 650 ڈے کیئر سینٹرز کے قیام کا منصوبہ ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ صرف بچوں کی دیکھ بھال تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد قومی ، معاشی اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے والی خواتین کو ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض پوری توجہ اور اعتماد کے ساتھ انجام دے سکیں۔ موجودہ دور میں خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی شمولیت کے پیشِ نظر یہ منصوبہ نہ صرف ایک سماجی ضرورت ہے بلکہ ترقی یافتہ معاشرے کی جانب ایک مثبت پیش رفت بھی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں 650 ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جن کے لیے تقریباً ایک ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 390 مراکز کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جن میں سے 350 پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں جبکہ باقی مراکز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ حکومت نے متعلقہ حکام کو ہدایات دی ہیں کہ تمام مراکز آئندہ مالی سال تک مکمل کر لیے جائیں۔
یہاں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان میں ہزاروں خواتین ایسی ہیں جو ملازمت، تدریس، طب، بینکاری، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دیتی ہیں، مگر بچوں کی دیکھ بھال ان کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی رہتی ہے۔ متعدد خواتین صرف اس وجہ سے ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ انہیں اپنے بچوں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد نگہداشت میسر نہیں ہوتی۔ حکومتی سرپرستی میں قائم کیے گئے یہ ڈے کیئر سینٹرز اسی بنیادی مسئلے کا حل ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ جب ایک ماں اپنے بچے کو محفوظ ہاتھوں میں محسوس کرتی ہے تو وہ زیادہ اعتماد اور اطمینان کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتی ہے۔
ان مراکز میں بچوں کے لیے تعلیمی مواد، کھلونے، ایل سی ڈی اسکرینز اور عمر کے مطابق سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ تربیت یافتہ کیئر ٹیکرز بچوں کی نگرانی کریں گے حکومت نے ان مراکز کی نگرانی کے لیے آن لائن مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کروا دیا ہے تاکہ شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس منصوبے کے سماجی اثرات انتہائی مثبت اور دور رس ہوں گے۔ سب سے پہلے یہ کہ یہ انقلابی قدم خواتین کی ملازمت میں شرکت کی شرح بڑھانے میں مدد دے گا۔ عالمی سطح پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جب خواتین کو بچوں کی نگہداشت کی سہولت میسر ہو تو ان کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔ پنجاب میں بھی یہ منصوبہ یقینی طور پر نہ صرف خواتین کو ملازمت برقرار رکھنے، بلکہ ترقی کے مواقع حاصل کرنے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
دوسرا اہم اثر بچوں کی ابتدائی نشوونما پر پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق زندگی کے ابتدائی سال بچے کی ذہنی، جذباتی اور سماجی ترقی
کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ڈے کیئر مراکز میں بچوں کو ایک منظم، محفوظ اور تعلیمی ماحول ملے گا جہاں وہ کھیل، سیکھنے اور سماجی روابط کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں گے۔ اس طرح یہ مراکز صرف بچوں کی نگرانی ہی نہیں بلکہ ان کی شخصیت سازی میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔
یہ پراجیکٹ خواتین کے لیے دوستانہ کام کی جگہوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ جدید دنیا میں وہ ادارے زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو اپنے ملازمین کی خاندانی اور سماجی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ جب کسی ادارے میں ڈے کیئر سینٹر موجود ہو تو خواتین ملازمین کی حاضری بہتر ہوتی ہے، ملازمت چھوڑنے کی شرح کم ہوتی ہے اور ادارے کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے ہسپتالوں، سرکاری دفاتر، دانش سکولوں اور تعلیمی اداروں میں ان مراکز کے قیام کو ترجیح دی ہے۔
اس منصوبے کا ایک اور مثبت پہلو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونا ہے۔ ہر ڈے کیئر سینٹر میں کیئر گیورز ، انتظامی عملہ اور معاون کارکنان کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح سینکڑوں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی جن سے خصوصاً خواتین کو فائدہ پہنچے گا اور یہ خواتین کی معاشی خودمختاری اور صوبے میں روزگار کے فروغ کے لیے بھی معاون ثابت ہوگا۔
جنوبی پنجاب اور دور دراز اضلاع کو خصوصی ترجیح دینا بھی اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ عموماً ترقیاتی منصوبوں کا زیادہ تر فائدہ بڑے شہروں تک محدود رہ جاتا ہے، مگر اس پروگرام میں پسماندہ یا کم ترقی یافتہ علاقوں کے گرلز کالجز، ہسپتالوں اور سرکاری اداروں کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ دیہی اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی خواتین بھی یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی خواتین کی فعال شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ جب خواتین کو تعلیم، روزگار اور محفوظ کام کے مواقع میسر آتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات پورے خاندان اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ڈے کیئر سینٹرز کا یہ منصوبہ خواتین کو صرف ایک سہولت فراہم نہیں کر رہا بلکہ انہیں اعتماد، تحفظ اور معاشی استحکام کی نئی راہیں بھی کھول دے گا۔
امید ہے کہ یہ منصوبہ مقررہ اہداف کے مطابق مکمل ہو نے کے بعد یہ پنجاب میں خواتین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک تاریخی اقدام ثابت ہو گا۔ 650 ڈے کیئر سینٹرز کا قیام اس امر کا مظہر ہے کہ خواتین کو قومی دھارے اورترقی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ ایک ایسے پنجاب کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں خواتین اپنے پیشہ ورانہ فرائض اور خاندانی ذمہ داریوں کے درمیان بہتر توازن قائم کر سکیں، جبکہ بچوں کو بھی محفوظ، تعلیمی اور صحت مند ماحول میسر آئے۔ یہی وہ سماجی سرمایہ کاری ہے جو مستقبل میں ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت بن سکتی ہے۔ #