محمد ندیم بھٹی
کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے اجتماعی رویے، شہری نظم و ضبط اور کمزور طبقات کے ساتھ برتاؤ سے ھوتی ھے۔ ترقی یافتہ اقوام صرف بلند عمارتوں، جدید سڑکوں یا صنعتی پیداوار سے نہیں بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہیں کہ وہاں خواتین، بچیاں، بزرگ اور عام شہری کس قدر محفوظ اور باوقار زندگی گزار رھے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں عورت اعتماد کے ساتھ گھر سے باہر نکل سکے تو وہ معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن سمجھا جاتا ھے۔
ہمارے ہاں خصوصاً پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد سمیت کئی علاقوں میں گلی محلوں کا سماجی ڈھانچہ ایک مخصوص انداز اختیار کر چکا ھے۔ بعض مقامات پر یہ رجحان عام دکھائی دیتا ھے کہ لوگ گلیوں کے نکڑوں، چوراہوں اور راستوں کے درمیان چارپائیاں یا منجے لگا کر گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک غیر رسمی سماجی نشست معلوم ھوتی ھے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات شہری نظم و نسق اور عوامی آمدورفت پر گہرے ھوتے ہیں۔
جب عوامی راستے غیر ضروری طور پر محدود ھو جائیں یا ان پر مستقل ہجوم موجود ھو تو اس کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور بچیوں کی نقل و حرکت پر پڑتا ھے۔ خصوصاً وہ طالبات جو اکیلی اسکول، کالج، یونیورسٹی یا صنعتی اداروں کام کرنے کے لئے جاتی ہیں، ایسے ماحول میں اکثر غیر آرام دہ محسوس کرتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بیٹی گھر سے باہر قدم رکھتے وقت خوف یا جھجھک محسوس کرے، وہاں حقیقی سماجی ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ھے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ھے کہ بعض علاقوں میں فارغ نوجوان یا افراد نکڑوں پر کھڑے ھو کر یا بیٹھ کر آنے جانے والی خواتین اور طالبات کو غیر ضروری نظروں سے دیکھنے کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ رویہ ہر فرد یا ہر جگہ پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، لیکن جہاں کہیں بھی ایسا رجحان موجود ھو، وہ سماجی بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیتا ھے۔ ایک مہذب معاشرے میں ہر فرد کی ذمہ داری ھے کہ وہ دوسروں کے لیے سہولت، عزت اور آسانی کا باعث بنے۔
اس پورے پس منظر میں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کا ویژن ایک ایسے سماجی ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتا ھے جہاں خواتین کو نہ صرف تحفظ حاصل ھو بلکہ انہیں تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت میں مکمل آزادی بھی حاصل ھو۔ یہ ویڑن دراصل اس سوچ کی نمائندگی کرتا ھے کہ خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ بنایا جائے، نہ کہ انہیں محدود رکھا جائے۔
ڈیجیٹل دور میں جہاں جدید ٹیکنالوجی نے بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال نے نئے سماجی خطرات کو بھی جنم دیا ھے۔ اسی تناظر میں آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا نے خصوصاً خواتین، طالبات اور نوجوان بچیوں کو اہم پیغام دیتے ھوئے کہا ھے کہ وہ اپنی ذاتی تصاویر یا ویڈیوز غیر ضروری طور پر سوشل میڈیا، فیس بک یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔ ان کا کہنا ھے کہ بعض شرپسند عناصر جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے تصاویر میں رد و بدل کر کے جعلی مواد تیار کرتے ہیں اور پھر اسی بنیاد پر بلیک میلنگ، ہراسمنٹ اور ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے والدین اور تعلیمی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کو ڈیجیٹل سیکیورٹی، آن لائن پرائیویسی اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ معاشرے کو ایسے بڑھتے ھوئے جرائم سے محفوظ بنایا جا سکے اور خواتین بااعتماد انداز میں اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ ان کا یہ پیغام دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ھے کہ موجودہ دور میں جسمانی تحفظ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تحفظ بھی اتنا ھی ضروری بن چکا ھے، کیونکہ ایک معمولی سی غفلت کسی خاندان اور خصوصاً نوجوان بچیوں کے لیے سنگین سماجی اور نفسیاتی مسائل کا سبب بن سکتی ھے۔
خواتین کسی بھی معاشرے کا نصف سے زیادہ حصہ ھوتی ہیں۔ اگر اس بڑے طبقے کو تعلیم کے مواقع ملیں تو نہ صرف خاندانی نظام مضبوط ھوتا ھے بلکہ قومی سوچ بھی ترقی کرتی ھے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں بہتر نسل کی تربیت کرتی ھے اور ایک باشعور خاتون پورے گھرانے کی فکری بنیادوں کو مضبوط بناتی ھے۔ یہی وجہ ھے کہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کو بنیادی اہمیت دی جاتی ھے۔
اسی طرح اگر کوئی خاتون اعلیٰ تعلیم حاصل نہ بھی کر سکے تو اس کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ھے۔ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر میں ہزاروں خواتین اور لڑکیاں فیکٹریوں میں کام کر کے اپنے گھروں کا معاشی بوجھ ہلکا کرتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ان کے خاندانوں کے لیے مددگار ھوتا ھے بلکہ مجموعی قومی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ھے۔
اگر خواتین کو محفوظ، باوقار اور پرسکون ماحول فراہم کیا جائے تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ تعلیم اور روزگار کے میدان میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر جدید ریاستوں کی ترقی کا انحصار ھوتا ھے کہ شہریوں کو مساوی مواقع اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
فیصل آباد میں امن و امان اور شہری نظم و ضبط کے حوالے سے پولیس اور انتظامی سطح پر جو اقدامات کیے جا رھے ہیں، ان میں مقامی سطح پر سماجی ماحول کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رھی ھے۔ آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا کی قیادت میں شہری نظم و نسق کو بہتر بنانے اور عوامی مقامات پر غیر ضروری رکاوٹوں اور بے مقصد اجتماعات کی حوصلہ شکنی کے حوالے سے جو اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، انہیں مجموعی طور پر ایک مثبت انتظامی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ھے۔
ان اقدامات کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ھے جہاں ہر شہری بلا خوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی گزار سکے۔ جب گلیاں کھلی ھوں، راستے صاف ھوں اور قانون کی موجودگی واضح ھو تو خواتین اور بچیوں کا اعتماد خود بخود بڑھ جاتا ھے۔
اصل مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ سماجی شعور کا بھی ھے۔ اگر والدین اپنے بچوں کی بہتر تربیت کریں، تعلیمی ادارے اخلاقی اقدار کو فروغ دیں اور کمیونٹی سطح پر ذمہ داری کا احساس پیدا ھو تو بہت سے سماجی مسائل خود بخود کم ھو سکتے ہیں۔ ایک باشعور معاشرہ وہ ھوتا ھے جہاں فرد اپنے حق کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حق کا بھی احترام کرے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ھے کہ گلی محلوں کا نظم و ضبط، خواتین کا تحفظ، تعلیم اور روزگار کے مواقع، ڈیجیٹل شعور اور ریاستی اداروں کا فعال کردار یہ سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں جہاں خوف کی جگہ اعتماد اور انتشار کی جگہ نظم لے لیتا ھے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط،
پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اجتماعی رویوں میں بہتری لانا ھوگی اور ہر اس قدم کی حمایت کرنی ھوگی جو شہریوں کے تحفظ، عزت اور باوقار مستقبل کو یقینی بنائے۔