ڈاکٹر جمشید نظر
صحت جسے دوسرے لفظوں میں تندرستی بھی کہا جاتا ہے ،دو الفاظ’’تن‘‘ اور’’درستی‘‘ کا مرکب ہے جس سے مراد انسانی جسم کی وہ کیفیات ہیں جو معمول کے مطابق ہوں یعنی ذہنی اور جسمانی تندرستی۔جسمانی تندرستی سے مراد ظاہری اور پوشیدہ تندرستی ہے،بہت سے ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ظاہری طور پر صحت مند نظر آتے ہیں لیکن اندرونی طور پر وہ بہت بیمار اور لاغرہوتے ہیں ،انھیں طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جو دوسروں کونظر نہیں آتیں۔اگر جائزہ لیا جائے توپاکستان سمیت دیگر ترقی پذیرممالک میں صحت مندزندگی گذارنے والے افراد کی شرح بہت کم ہے۔ آپ اپنے اردگرد کسی سے بھی پوچھ لیں ہر کوئی کسی نہ کسی ظاہری یا اندرونی بیماری کا شکار ہے۔زیادہ تر افراد ذیابیطس،گھٹنوں اور جسمانی دردوں،کولیسٹرول،بلڈپریشر،موٹاپا وغیرہ کا شکار ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ کھانے پینے میں بے احتیاطی اور بے ہنگم طرز زندگی ہے۔اسی لئے کہتے ہیں کہ صرف اچھا کھانا پینا یا اچھا پہننا ہی صحت مند زندگی کا نام نہیں بلکہ اچھی صحت کا دارومدارمثبت ذہن، مثبت شخصیت اور صحت مند طرز زندگی پر منحصر ہے۔اگر ہمارا ذہن،ہماری شخصیت اور طرز زندگی مثبت نہیں ہوگا تو اچھی صحت کا حصول ناممکن ہے۔صحت مند زندگی کا شعور بیدار کرنے کے لئے ہر سال اقوام متحدہ کے زیراہتمام صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ا صحت کا عالمی دن پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قیام کے بعد 7 اپریل 1948 کودن منایا گیا تھا۔اچھی صحت کی ترغیب دینے کے لئے ہر سال مختلف بیماریوں کے حوالے سے الگ الگ عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں لیکن صحت کا عالمی دن ان تمام بیماریوں سے محفوظ رہنے اور صحت مند طرز زندگی گذارنے کی ترغیب دیتا ہے۔اس سال صحت کے عالمی دن کا موضوع ماں اور بچے کی صحت کی مناسبت سے رکھا گیا ہے،تھیم ہے’’صحت مند آغاز،پرامید مستقبل ‘‘۔یہ موضوع اس لئے رکھا گیا ہے کہ اگر ماں اور بچہ صحت مند ہوں گے تو صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے گا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریبا تین لاکھ خواتین حمل یا بچے کی پیدائش کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں جبکہ 20لاکھ سے زائد بچے اپنی عمر کے پہلے مہینہ میں مر جاتے ہیںاور تقریبا 20لاکھ بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں اس طرح تقریبا ہر سیکنڈ میں ایک موت ہورہی ہے۔اس سال اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ماں صحت مند اور اس قابل ہونی چاہیئے کہ وہ صحت مند بچے کو جنم دے سکے ۔
جدید تحقیق میں اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ انسانی صحت کا تعلق صرف جسم اور دماغ سے ہی نہیں بلکہ ہمارے لائف سٹائل سے بھی ہے۔ مشی گن یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جسمانی صحت اور تندرستی کا تعلق ہمارے روزمرہ کے طرز زندگی سے ہوتا ہے جسے ہم بہتر بنا کر جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ دل اور دماغ کو بھی مختلف بیماریوں سے بچا سکتے ہیں۔اسی طرح برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق صحت مند زندگی گزارنے والے افراد میں تشدد پسندی کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی دماغی کار کردگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختص کئے ہوئے مقاصد کو بھی حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔صحت مند زندگی کے فروغ کے لئے صحت کی سہولتوںکا ہونا بھی ضروری ہے۔صحت کی مناسب سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے نہ صرف بیمار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں بلکہ وہ دیگر صحت مند افراد کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔
صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تاریخی اور بنیادی اقدامات کئے ہیں۔صحت مند پنجاب ویژن کے تحت ہیلتھ ریفارمزپروگرام، عوام کو ان کی دہلیز پرصحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کلینک آن ویلز،سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات،مریضوں کے گھروں تک ادوایات کی فراہمی،سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور ری ویمپنگ،ہیلتھ کارڈکا اجراء،مریم نواز ہیلتھ سروسز،دیہی و بنیادی مراکز صحت کی بحالی،ائیر ایمبولینس،موٹر وے ایمبولینس،لاہور سے آلودگی اور سموگ کے خاتمہ کے لئے خصوصی پروگرام،چیف منسٹر چلڈرن ہارٹ سرجری،چیف منسٹر ڈائیلسز پروگرام،چیف منسٹر انشی ایٹو ٹرانسپلانٹ پروگرام،طلباء کی فری سکریننگ،انھیں عینک اور ہیئرنگ ایڈ کی مفت فراہمی،آٹزم کے شکار بچوں کے لئے لاہور میںپہلے سرکاری سکول کا قیام،بالغ افرد کے لئے مفت ہارٹ سرجری ، جگر امپلانٹ اور ڈائیلسز، کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کے لئے لاہور اور سرگودہا میںنواز شریف کینسر انسٹی ٹیوٹس کا قیام اور بے شمار ایسے اقدامات ہیں جن کا ذکر ایک کالم میں نہیں کیا جاسکتااس کے علاوہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف خود بھی ہسپتالوں کے اچانک دورے کررہی ہیں ان کی ٹیم میں شامل صوبائی وزراء مریم اورنگزیب ،خواجہ سلمان رفیق اور عمران نذیر بھی ہسپتالوں کے اچانک دورے کرکے مریضوں کی دادرسی اور سہولتوں کی بہتری کے لئے کام کررہے ہیں۔پنجاب حکومت کی جانب سے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ صحت مند معاشرے کے فروغ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ،نیند پوری کریں،بسیار خوری سے بچیں،صاف ستھرے رہیں،ایکسر سائز،جاگنگ کریں اور ہیلتھی فوڈز استعمال کریں اگر غور کریں توہمارا دین اسلام بھی ہمیں یہی کچھ سکھاتا ہے،اچھی صحت پانا چاہتے ہیں تو دین اسلام کی بتائی ہوئی باتوںپر ہی عمل کرلیں۔