بھارت نے دریائے سندھ کا پانی روکنے کیلئے لداخ میں کام شروع کردیا انڈیا یاد رکھے اس کا پانی چین سے آتاہے:مصدق ملک

 بھارت لداخ میں  10 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ماسٹر پلان پر کام کر رہا ہے: آبی ماہر انجینئر ارشد ایچ عباسی کا اقوام متحدہ کو خط
 بھارت ہمارا پانی روک کر چین کو ان کا پانی روکنے کا حق دے رہا ہے:مصدق ملک‘پاکستان آبی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا:شیری رحمان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی) بھارت نے آبی جارحیت جاری رکھتے ہوئے دریائے سندھ کے بہاؤ کو روکنے کے لیے متنازعہ علاقے لداخ میں چار نئے منصوبوں کا ماسٹر پلان شروع کر دیا ہے۔اس بات کا انکشاف معروف آبی ماہر انجینئر ارشد ایچ عباسی کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو بھیجے گئے ایک خط میں کیا گیا ہے۔خط کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت متنازع علاقے لداخ میں اچنتھنگ، سانجک، پارفیلا، باتالک اور خلستی کے 10 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ماسٹر پلان پر کام کر رہا ہے۔مکتوب میں لکھا گیا ہے کہ یہ منصوبے نہ صرف معاہدے کے تحت اجازت دی گئی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ پاکستان میں پانی کے بہائو کو روکنے اور کم کرنے کے حوالے سے سنگین خدشات بھی پیدا کرتے ہیں۔دریں اثنائوفاقی وزیر مصدق ملک نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اگر ہمارا پانی روکتا ہے تو یاد رکھے ان کا پانی چین سے آتا ہے‘ بھارت ہمارا پانی روک کر چین کو ان کا پانی روکنے کا حق دے رہا ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے  گفتگو کرتے ہوئے  مصدق ملک نے کہا کہ افواج پاکستان نے ہماراسرفخرسے بلند کردیاہے، پاکستان کو دوسری بڑی کامیابی سفارتی سطح پربھی ملی ہے۔کستان پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کی جانب سے لداخ میں دریائے سندھ پر 10 ہائیڈرو پاور منصوبے بنا کر پانی کا قدرتی بہا ئو روکنے کے ماسٹر پلان کو سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا ہے کہ   پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، ہر قانونی، سفارتی اور سیاسی محاذ پر بھرپور جواب دے گا۔