پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے بانیٔ پی ٹی آئی کے بیٹے کی جانب سے جی ایس پی پلس سے متعلق دیے گئے بیان کو افسوسناک اور غیر ذمے دارانہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے حساس معاملات پر غیر سنجیدہ گفتگو کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس پاکستان کے لیے انتہائی اہم تجارتی سہولت ہے، جس کے ذریعے ملک کی برآمدات کو یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی مفاد اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کو سیاست کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے بیانات ملک کے معاشی مفادات کے خلاف ہیں اور مشکل وقت میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ مناسب نہیں۔شازیہ مری نے کہا کہ مشکل ادوار میں صدر آصف علی زرداری نے ہمیشہ اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا اور “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگا کر قومی مفاد کو مقدم رکھا۔ ان کے مطابق آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ملک کے مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے بیٹے پاکستان میں مقیم نہیں ہیں جبکہ ہم اور ہمارے بچے اسی ملک میں رہتے ہیں، اس لیے پاکستان کی ساکھ ہمارے لیے سب سے اہم ہے۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے بیانات دینا جو ملک کی ساکھ کو متاثر کریں، انتہائی افسوسناک ہے۔پیپلز پارٹی رہنما نے یہ بھی کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کو ملکی قوانین اور عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بانیٔ پی ٹی آئی نے لندن کے میئر کے انتخاب میں صادق خان کے مقابل کس کی حمایت کی تھی، یہ سب کو یاد ہے، لہٰذا دوہرا معیار قابلِ قبول نہیں۔
شازیہ مری نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر سازشیں کرنے والوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی اور ہر صورت میں قومی مفاد کا تحفظ کیا جائے گا۔