ڈی آئی جی آپریشنز کا سخت نوٹس،فوری تحقیقات کا حکم ، چوکی انچارج سمیت تمام عملے کو حراست میں لے لیا گیا
لاہور (کرائم رپورٹر) چوکی انڈسٹریل ایریا کاہنہ میں ایک شخص کی پنکھے سے لٹکتی لاش برآمد ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت افتخار کے نام سے ہوئی ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی ماڈل ٹاؤن اور متعلقہ ڈی ایس پی موقع پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیاپولیس حکام کے مطابق یہ بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ افتخار کو چوکی کیوں لایا گیا تھا اور واقعے کے محرکات کیا ہیں۔ ابتدائی کارروائی کے طور پر چوکی انچارج سمیت تمام عملے کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا کہنا ہے کہ افتخار کی موت کے پس پردہ حقائق جاننے کے لیے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، متوفی کے ورثا کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے واقعے کی تفصیلی رپورٹ اور دستیاب شواہد کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جبکہ ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لاہور میں پولیس حراست کے دوران ایک شہری کی ہلاکت کے واقعے نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہیڈی آئی جی آپریشنز لاہورفیصل کامران نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی 15 کال پر حراست میں لیے گئے شہری کو چوکی میں تنہا چھوڑنا سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے انہوں نے کہا کہ زیر حراست شخص کی حفاظت متعلقہ پولیس کی ذمہ داری تھی، جس میں کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔افتخار نامی شہری کو چوکی لانے اور بعد ازاں اسے اکیلا چھوڑنے کے تمام عوامل کی مکمل چھان بین جاری ہے۔ واقعے کے بعد چوکی انچارج سمیت تمام متعلقہ اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہیابتدائی شواہد میں غفلت کے پہلو سامنے آنے پر محکمانہ احتساب کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ زیر حراست افراد سے متعلق طے شدہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا گیاانہوں نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ متوفی افتخار کے ورثا کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ شواہد اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے گا اور اگر غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ادارہ جاتی احتساب کو مزید مؤثر بنانے کا تقاضا کرتا ہے اور تمام افسران کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ زیر حراست افراد کی سکیورٹی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔