چین میں پہلی بار خنزیر کے جگر کی کامیاب انسانی جسم میں پیوندکاری

چین میں پہلی بار خنزیر کے جگر کی کامیاب انسانی جسم میں پیوندکاری

چین کے ڈاکٹرز نے پہلی بار کامیابی سے خنزیر کے جگر کی انسانی جسم میں پیوندکاری کی ہے، جسے اعضاء کی پیوند کاری کے میدان میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ کامیاب پیوندکاری چین کے شہر ژیان کی فورتھ ملٹری میڈیکل یونیورسٹی میں کی گئی، جہاں ڈاکٹرز نے خنزیر کے جگر کو انسانی جسم میں کامیابی سے پیوندکاری کیا۔ اس عمل میں خنزیر کے جگر کے ڈی این اے میں چھ جینز کو ایڈٹ کیا گیا تھا تاکہ وہ انسانی جسم میں بہتر طور پر کام کر سکے۔ڈاکٹر لن وانگ، جو ژیان اسپتال میں اس کامیاب پیوندکاری کے عمل کا حصہ تھے، نے کہا کہ خنزیر کا جگر انسانی جسم میں اچھی طرح سے کام کر رہا ہے اور اس نے پروٹین البومین بھی پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مستقبل میں جگر کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے ایک اہم حل ثابت ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل، امریکا میں خنزیر کے دل اور گردوں کی پیوندکاری کی کوشش کی جا چکی ہے، لیکن خنزیر کے جگر کی انسانی جسم میں پیوندکاری زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئی تھی۔ اس طرح کی پیوندکاری اب تک کسی بھی انسان میں کامیابی سے نہیں کی گئی تھی۔عالمی سطح پر جگر کے عطیات کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر، محققین جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیروں کے اعضاء کو انسانی جسم میں پیوندکاری کو ایک عارضی حل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ تاہم، اس نئی پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے بہت سے محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ نتائج اس بات کا حتمی ثبوت نہیں ہیں کہ خنزیر کا جگر مستقل طور پر انسانی جگر کی جگہ لے سکتا ہے۔