مرنے کے بعد انسانی جسم میں کیا ہوتا ہے؟ ایک حیرت انگیز سائنسی سفر

مرنے کے بعد انسانی جسم میں کیا ہوتا ہے؟ ایک حیرت انگیز سائنسی سفر

انسانی جسم موت کے بعد ایک منفرد اور دلچسپ عمل سے گزرتا ہے، جو چند سیکنڈ سے لے کر مہینوں تک جاری رہتا ہے۔

 آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ حیران کن مراحل کیسے طے ہوتے ہیں:

 سیکنڈز (Seconds)
موت کے فوراً بعد دماغی سرگرمیاں رک جاتی ہیں، جیسے ایک فلم کا اچانک اختتام۔ جسم کا درجہ حرارت فی گھنٹہ 1.6 ڈگری کی رفتار سے کم ہونا شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ کمرے کے درجہ حرارت تک پہنچ جاتا ہے۔

 منٹس (Minutes)
چند منٹوں میں خلیوں میں آکسیجن ختم ہو جاتی ہے، اور "پوٹریفیکیشن" (Putrefaction) نامی عمل کا آغاز ہوتا ہے، جو جسم کو تحلیل کرنے کا پہلا قدم ہے۔

 گھنٹے (Hours)
چند گھنٹوں میں کیلشیم عضلات میں جمع ہو جاتا ہے جس سے رگور مارٹس (Rigor Mortis) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جسم سخت اور مجسمے کی طرح لگنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت تقریباً 36 گھنٹے رہتی ہے اور پھر ختم ہو جاتی ہے۔

 دن (Days)
کچھ دنوں کے بعد جلد سکڑ جاتی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ناخن اور بال بڑھ رہے ہوں۔ خون جسم کے نچلے حصے میں جمع ہو کر سرخی مائل دھبے بنا دیتا ہے۔

 ہفتے (Weeks)
ہفتوں میں بیکٹیریا اور انزائمز جسم کو اندر سے ہضم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جلد پر ہرے دھبے ظاہر ہوتے ہیں اور مکھیاں انڈے دیتی ہیں جن سے نکلنے والے میگوٹس (Maggots) ایک ہفتے میں جسم کا 60٪ حصہ کھا جاتے ہیں۔

???? مہینے (Months)
اگر درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری فارن ہائیٹ رہے تو چار سے پانچ مہینے میں نرم بافتیں ختم ہو جاتی ہیں اور صرف ہڈیاں باقی رہ جاتی ہیں۔ اس دوران بال بھی جھڑ جاتے ہیں۔

???? دلچسپ حقیقت
اس سارے عمل میں پیوٹریسین (Putrescine) اور کیڈاویرین (Cadaverine) جیسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں، جو تیز اور ناگوار بدبو کا باعث بنتے ہیں۔