واشنگٹن: امریکی ریاست میساچوسٹس کی ٹفٹس یونیورسٹی کی ترک نژاد طالبہ رومیسہ کو امریکی امیگریشن حکام نے گرفتار کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق رومیسہ نے فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لیا تھا جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق رومیسہ افطار کے لیے جا رہی تھیں کہ اچانک سادہ کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش اہلکاروں نے انہیں گھیر لیا اور ہتھکڑیاں لگا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ٹفٹس یونیورسٹی کے صدر نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امیگریشن حکام نے رومیسہ کا ویزا منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔رومیسہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنے پر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔رومیسہ کی گرفتاری کے بعد اس واقعے پر مختلف انسانی حقوق کے گروپوں اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کی کوشش ہے اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے طلبہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔