کولمبیا یونیورسٹی کی فلسطینی طالبہ، لیقا، کو امریکا میں فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، لیقا دوسری فلسطینی طالبہ ہیں جنہیں حالیہ احتجاجات کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل فلسطینی طالب علم محمود خلیل کو بھی اسی نوعیت کی احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی نے ایک بیان میں کہا کہ لیقا کا ویزا مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم تھا اور اسے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ محکمہ کے مطابق، لیقا کو امریکا سے ڈی پورٹ کرنے کے لیے یہ کارروائی کی گئی ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں، فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو دہشت گرد سرگرمیوں کی حمایت کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور اس کے تحت امریکی یونیورسٹیوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایسے مظاہروں میں شریک طلبا کے خلاف سخت کارروائی کریں۔
اسی سلسلے میں، بھارت کی ایک طالبہ رنجنی سری نواسن کو حماس کی حمایت کرنے پر اس کا اسٹوڈنٹ ویزا منسوخ کر دیا گیا۔ اس بارے میں ہوم لینڈ سیکورٹی نے کہا کہ رنجنی کو ڈی پورٹ کیا جائے گا، تاہم بھارتی طالبہ نے خود ہی امریکا چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے واپس بھارت جانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ زبردستی امریکی فوجی طیارے میں سوار ہو کر وطن واپس نہیں جانا چاہتیں۔