امریکا نے فلسطین کی حمایت کرنے والے 300 غیر ملکی طلبا کے ویزے منسوخ کر دیے

امریکا نے فلسطین کی حمایت کرنے والے 300 غیر ملکی طلبا کے ویزے منسوخ کر دیے

امریکا نے فلسطین کی حمایت کرنے والے 300 غیر ملکی طلبا کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 امریکا کے وزیرخارجہ مارکو روبیو نے اس بات کی تصدیق کی کہ محکمہ خارجہ نے ان طلبا کے ویزے منسوخ کیے ہیں جو فلسطینیوں کی حمایت کر رہے تھے۔ وزیرخارجہ روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان افراد کا تعاقب کرنے کا عہد کیا ہے جو اسرائیل کے خلاف سرگرم ہیں اور فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔امریکا کے مختلف علاقوں میں امیگریشن حکام نے کئی اسکالرز کو حراست میں لے لیا ہے۔ روبیو نے کہا کہ یہ کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں اور ہر اس فرد کا ویزا منسوخ کیا جائے گا جو امریکا میں فلسطین کے حق میں بات کرے گا یا اس کی حمایت کرے گا۔

اس سے قبل، بوسٹن کے قریب ٹفٹ یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ رومیسہ اوزترک کو بھی فلسطینیوں کی حمایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ترکی سے تعلق رکھنے والی اوزترک کا ویزا بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انھیں میسا چوسٹس میں اپنے گھر کے باہر سے امریکی امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا۔اس کے علاوہ، کئی دیگر غیر ملکی طلبا کے ویزے بھی فلسطینیوں کی حمایت کرنے پر منسوخ کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کو ماہرین اور وکلاء آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ طلبا کے حقوق اور آزادیوں کی پامالی ہے۔