ایل این جی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار رک گئی ‘لوڈشیڈنگ‘ہر شہری پریشان پوری امید ہے چند دنوں میں بحران حل ہو جائیگا:وفاقی وزیرتوانائی

 حویلی بہادر شاہ، بھیکی اور نندی پور پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ، ساہیوال پاور پلانٹ کی پیداوار بھی بند ،  نیلم جہلم سے بھی  بجلی نہیں بنائی جا رہی
درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ ہے ، پیک آورز میں لوڈشیڈنگ پر معذرت خواہ ہوں،  ڈیزل سے پلانٹ چلا کر فی یونٹ 100 روپے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال  سکتے:اویس لغاری 
لاہور‘اسلام آباد(آئی این پی )ملک بھر میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا، پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار 726 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے، بجلی کی پیداوار 14 ہزار 274 میگاواٹ، جبکہ بجلی کی طلب 20 ہزار میگاواٹ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں پن بجلی کی پیداوار 1 ہزار 530 میگاواٹ، تھرمل پیداوار 7 ہزار 814 میگاواٹ ہے۔اس کے علاوہ ملک میں سولر پیداوار 450 میگا واٹ، ونڈ انرجی کی پیداوار ایک ہزار 490 میگاواٹ، نیوکلیئر پیداوار 2 ہزار 890 میگا واٹ ہے، جبکہ بیاس پاور پلانٹ 100 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔دوسری جانب میڈیارپورٹس کے مطابق  پاکستان میں ایل این جی امپورٹ صفر ہونے سے ایل این جی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار رک گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے  حویلی بہادر شاہ، بھیکی اور نندی پور پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے، ساہیوال پل پاور پلانٹ کی پیداوار بھی تقریبا بند ہے، 969 میگا واٹ نیلم جہلم بند، پن بجلی منصوبے سے بھی بجلی پیدا نہیں ہو رہی۔ذرائع کے مطابق ٹرانسمیشن لائنز بھی مکمل صلاحیت سے بجلی ترسیل کرنے سے قاصر ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا سسٹم بھی اوور لوڈڈ ہے۔دریں اثناء فاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کیکم اپریل سے درآمدی گیس بند ہے جس کے باعث یہ عارضی لوڈشیڈنگ ہے، پوری امید ہے چند دنوں  کے اندر بحران حل ہو جائے گا۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا  عوام کے سامنے لوڈشیڈنگ سے متعلق حقائق رکھنا چاہتا ہوں، پیک آورز میں لوڈشیڈنگ پر معذرت خواہ ہوں، پیک آورز میں گیس سے بجلی کی پیداوار نہیں کر سکتے۔اویس لغاری نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث موجودہ حالات کا سامنا ہے، دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان کی صورتحال کافی بہتر ہے، ہم نے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے اندھیروں سے نکالا۔وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کے باعث پن بجلی کی پیداوار 1676 میگاواٹ ہے، پن بجلی میں 1530 میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے، دن کے اوقات میں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ تمام پلانٹس آپریشنل ہیں، ۔وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ دیہی، شہری علاقوں سمیت صنعتی شعبے میں بھی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، لوگ سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، ڈیزل سے پلانٹ چلا کر فی یونٹ 100 روپے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایل این جی کو امپورٹ کرنے کی پوری کوشش ہو رہی ہے، پوری امید ہے چند دنوں کے اندر بحران حل ہو جائے گا