افریقی ملک نے فرانس سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان

افریقی ملک نے فرانس سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان

برکینا فاسو کی فوجی حکومت نے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے اور اہم موڑ کا اشارہ دیا ہے۔

 حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ باہمی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا، کیونکہ موجودہ حالات میں تعلقات کو برقرار رکھنا قومی مفادات اور خودمختاری کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برکینا فاسو کی حکومت نے اپنے سرکاری بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ فرانس نے باہمی احترام، خودمختاری اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے بنیادی سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت کے مطابق یہی عوامل اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنے۔بیان میں فرانس پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اب بھی برکینا فاسو کے حوالے سے "نوآبادیاتی عزائم" رکھتا ہے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر کی حمایت کر رہا ہے جو برکینا فاسو اور پورے ساحلی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔حکومت نے واضح کیا کہ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ صرف ریاستی سطح تک محدود ہے اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سماجی روابط کو متاثر کرنا نہیں۔

حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برکینا فاسو کے شہری فرانس سمیت تمام غیر ملکی شہریوں کے ساتھ قانون اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے برتاؤ کریں۔دوسری جانب فرانس نے برکینا فاسو کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور مناسب سفارتی ردعمل پر غور کیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مغربی افریقہ میں بدلتے ہوئے سیاسی اور سفارتی منظرنامے کی عکاس ہے، جہاں حالیہ برسوں میں کئی فوجی حکومتوں نے فرانس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ برکینا فاسو بھی پہلے ہی فرانسیسی فوج کے انخلا اور روس سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کی سمت میں اہم اقدامات کر چکا ہے، جبکہ اب سفارتی تعلقات کا خاتمہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔