محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کی موجودہ لہر جولائی کے پہلے ہفتے تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث برفانی علاقوں میں خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی مقدار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں میں پانی کی سطح بلند رہ سکتی ہے، جبکہ موجودہ گلیشیائی جھیلیں مزید پھیلنے اور نئی جھیلیں بننے کا بھی امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے قدرتی برفانی یا پتھریلے بند غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیل پھٹنے (گلوف) کے واقعات رونما ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نشیبی اور حساس علاقوں میں اچانک سیلاب، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی و پتھروں کے بڑے ریلے آنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
الرٹ میں شہریوں، مقامی آبادی اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی وادیوں کے قریب جانے سے گریز کریں، جبکہ کیمپنگ، ٹریکنگ اور غیر ضروری سفر سے بھی احتراز کریں۔واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں سپارکو نے ملک بھر میں 130 ایسی گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی تھی، جنہیں ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے اور جن سے نشیبی آبادیوں کو گلوف کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے بھی شدید گرمی کے پیش نظر صوبے بھر کے اسپتالوں کو ہیٹ ویو اور ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی ایمرجنسی یونٹس قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔