اسلام آباد میں گرمی کی شدت، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی سیلاب کا خطرہ — محکمہ موسمیات کی وارننگ جاری

اسلام آباد میں گرمی کی شدت، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی سیلاب کا خطرہ — محکمہ موسمیات کی وارننگ جاری

اسلام آباد: حالیہ دنوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے شمالی علاقوں خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا شدید خطرہ ہے۔

 اس تناظر میں محکمہ موسمیات (PMD) نے خطرے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔

گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کا خطرہ
محکمہ موسمیات کی ماہر، زینت یاسمین کے مطابق آئندہ ہفتے درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہو جائے گا۔ اس سے گلیشیئر جھیلیں پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood - GLOF) کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جو متاثرہ وادیوں میں فلیش فلڈز اور گلیشیائی سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔

متاثرہ علاقے اور خطرات
محکمہ موسمیات کے مطابق درج ذیل علاقے اس وقت سب سے زیادہ حساس سمجھے جا رہے ہیں:

گلگت بلتستان: ہنزہ، نگر، استور، غذر، اور دیامر
خیبرپختونخوا: چترال، سوات، اپر کوہستان، اور شانگلہ
یہ علاقے بلند پہاڑوں اور گلیشیئرز سے گھرے ہونے کی وجہ سے موسمیاتی اثرات کے فوری اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔

متعلقہ اداروں کے لیے ہدایات
محکمہ موسمیات نے:ضلعی انتظامیہ، NDMA اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے.متاثرہ علاقوں میں ریسکیو پلان تیار رکھنے، ریہائشی علاقوں کا سروے کرنے، اور بروقت انخلا کے انتظامات یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے.مقامی حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات شروع کریں تاکہ مقامی آبادی خطرات سے باخبر رہ سکے
شہریوں اور سیاحوں کے لیے وارننگ
محکمہ موسمیات نے عام شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ:حساس اور خطرناک وادیوں کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کریں.مقامی حکام کی جاری کردہ ایڈوائزری پر عمل کریں
دریاؤں، ندی نالوں اور گلیشیئرز کے قریب کیمپنگ یا رہائش سے پرہیز کریں.
ماہرین کی رائے
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ:گلوبل وارمنگ اور مقامی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے خطے میں قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے.فوری طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے.مقامی سطح پر واٹر مینجمنٹ، ایمرجنسی رسپانس اور کمیونٹی بیداری جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں
پس منظر
پاکستان کو پہلے ہی عالمی سطح پر ان ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ 2022 میں ملک میں شدید مون سون بارشوں اور سیلابوں سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔ اب گلیشیائی سیلاب کا خطرہ ایک نئی ماحولیاتی آزمائش بن کر سامنے آ رہا ہے۔