خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین کو فائدہ نہ مل سکا

خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین کو فائدہ نہ مل سکا

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے اور پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنے کے فیصلے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے اعداد و شمار میں بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ظاہر کی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود صارفین کو مکمل ریلیف منتقل نہیں کیا گیا۔جاری اعداد و شمار کے مطابق 22 جون کو عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 98.35 ڈالر فی بیرل تھی جو 26 جون تک کم ہو کر 91.68 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 109.09 ڈالر سے کم ہو کر 104.79 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر نمایاں کمی کی ہے، تاہم موجودہ دورانیے میں حکومت بین الاقوامی معاشی صورتحال اور مالیاتی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہی ہے۔دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ڈیزل پر لیوی 6 روپے 57 پیسے اضافے کے بعد 79 روپے 54 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول پر لیوی 39 پیسے اضافے کے بعد 66 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ جیٹ فیول کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 231 روپے 72 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے حالیہ اعلان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے مٹی کے تیل کی قیمت میں معمولی کمی کی تھی، تاہم لیوی میں اضافے کے باعث عوام کو عالمی منڈی میں کمی کا مکمل فائدہ منتقل نہیں ہو سکا۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مقامی سطح پر ٹیکسز اور لیویز میں تبدیلی براہِ راست صارفین پر اثر انداز ہو رہی ہے۔