نئی دہلی: ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی سرحد پر نہنگ سکھوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس، خصوصاً دی ہندو کے مطابق، کرن پریاگ واقعے میں گرفتار چار نہنگ سکھوں کی رہائی کے مطالبے پر مظاہرین نے احتجاج تیز کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے کلہال چیک پوسٹ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا کر اپنے مقدس مقام ہیم کنڈ صاحب کی جانب مارچ جاری رکھا۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی سرحد پر نہنگ سکھوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں، جبکہ حکام کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ احتجاج نے ایک بار پھر بھارت میں مذہبی اور سماجی کشیدگی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس معاملے پر مختلف حلقوں کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور صورتحال بدستور ارتقا پذیر ہے۔