چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں چینی افواج کی سرحدی علاقوں میں موجودگی، فوجی تنصیبات اور تزویراتی سرگرمیوں نے بھارتی دفاعی حکمت عملی سے متعلق کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی سابقہ رپورٹنگ اور سرحدی صورتحال سے متعلق مختلف تجزیوں کے تناظر میں چین اور بھارت کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر فوجی تناؤ کو خطے کی سکیورٹی کے لیے اہم چیلنج قرار دیا جاتا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق چینی فوج نے متنازع سرحدی علاقوں میں فوجی انفراسٹرکچر، عارضی کیمپوں اور دیگر تنصیبات کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھی، جس سے بھارتی فوج کے لیے سرحدی نگرانی اور دفاعی انتظامات مزید پیچیدہ ہوگئے۔جون 2020 میں وادی گلوان میں چین اور بھارت کی افواج کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی تھی، جس میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے نے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ کیا اور سرحدی دفاع، فوجی تیاریوں اور حکمت عملی پر بحث شروع کردی تھی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹنگ کے مطابق اس جھڑپ کے بعد سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر میں گلوان وادی کے قریب چینی فوجی سرگرمیوں، نئی تعمیرات اور عارضی تنصیبات کے آثار دیکھے گئے تھے۔ ان تصاویر نے متنازع سرحدی علاقے میں دونوں ممالک کی فوجی پوزیشنوں اور دفاعی تیاریوں کو بھی نمایاں کیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی فروری 2021 کی رپورٹ کے مطابق پینگونگ جھیل کے اطراف چینی فوج نے متعدد فوجی ڈھانچے اور کیمپ ختم کیے تھے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی انخلا کا مرحلہ وار عمل شروع ہوا تھا۔ اس پیش رفت کو سرحدی کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔دفاعی ماہرین کے مطابق چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع محض فوجی موجودگی تک محدود نہیں بلکہ اس میں جغرافیائی کنٹرول، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، نگرانی کے نظام اور تزویراتی برتری جیسے اہم عوامل بھی شامل ہیں۔بھارتی فوج کو بلند پہاڑی علاقوں میں رسد، نقل و حرکت اور سرحدی نگرانی کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، جبکہ چین کی جانب سے سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی مقابلے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔