سی سی ڈی ٹیم ملزم کو ہتھیار برآمد کرانے کیلئے لے جا رہی تھی ‘ساتھیوں نے چھڑانے کیلئے فائرنگ کردی
پولیس کو ایک اہم فوٹیج ملی تھی جس میں منتہیٰ کو دکان کے اندر جاتے دیکھا جا سکتا ہے لیکن وہ باہر نہیں آئی تھی
سرگودھا (بیورو رپورٹ) سرگودھا میں 8 سال کی معصوم بچی منتہیٰ کو مبینہ زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کرنے کا مرکزی ملزم ارسلان تھانہ جھال چکیاں کے علاقے میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔ سرگودھا پولیس کے مطابق کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی ٹیم گرفتار ملزم ارسلان کو قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار برآمد کرانے کے لیے لے جا رہی تھی کہ راستے میں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے ملزم کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کر دی، پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان ہونے والے اس مقابلے میں مرکزی ملزم ارسلان اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ فائرنگ کرنے والے ملزمان رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف کی ہدایت پر بننے والی 6 رکنی ٹیم نے گزشتہ روز مرکزی ملزم ارسلان سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں دکان کا مالک حنیف اور اس کا بیٹا بھی شامل ہیں، پولیس کو ایک اہم فوٹیج ملی جس میں معصوم منتہیٰ کو دکان کے اندر جاتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن وہ وہاں سے باہر آتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ معلوم ہوا ہے کہ معصوم منتہیٰ کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی مرکزی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے، جنازے میں رشتہ داروں اور شہریوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی