کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حکومتی،سکیورٹی فورسز سمیت کسی فرد کو کافر قرار دے ، تمام شہری آئین کی بالادستی تسلیم کریں
دفاعی اداروں کیساتھ کھڑا ہونا چا ہئے جو سرکاری و نجی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تعلیم دیگا سخت کارر وائی ہوگی ، اعلامیہ
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف مسلح کارروائی یا تشدد کو بغاوت سمجھا جائیگا ، محرم الحرام میں امن عامہ کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل نے ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا، جس پر تمام مسالک کے علما کے دستخط موجود ہیں ،ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ تمام شہریوں پر فرض ہے کہ آئین کی بالادستی تسلیم کریں ، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی اور تشدد بغاوت ہوگی ،اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق کسی فرد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حکومتی،سکیورٹی فورسز سمیت کسی فرد کو کافر قرار دے ،متفقہ اعلا میہ میں مزید کہا گیا کہ لسانی تعصب،فرقہ واریت کی تحریکوں کا حصہ بنے سے گریز کیا جائے ، انتہا پسندی،فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ جاری اعلامیہ میں تمام شہریوں کو آئین پاکستان اور ریاست سے وفاداری کے حلف کی پاسداری کی تلقین کی گئی ہے ،اعلامیہ میں کہا گیا کہ کوئی سرکاری یا نجی تعلیمی ادارہ اگر عسکریت یا شدت پسندی کی تعلیم دیتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ،تمام شہریوں پر لازم ہے کہ وہ آئین پاکستان کے تحت وفاداری کے حلف کو نبھائیں ، اعلامیہ میں افواجِ پاکستان کی بھرپور حمایت اور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر شہری کو دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چا ہئے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے خاتم النبیینؐ، صحابہ کرام، اور اہل بیت کی توہین کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ کسی فرد کی تکفیر بھی ممنوع ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام سالانہ علماء و مشائخ کانفرنس برائے محرم الحرام کی صدارت چیئرمین کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف تھے۔ کانفرنس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء مشائخ نے شرکت کی اور پیغامِ پاکستان کی روشنی میں محرم الحرام کے حوالے سے متفقہ ضابطہ اخلاق کی توثیق کی ، علمائے کرام نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ تمام مکاتبِ فکر کو اپنے عقائد کی تبلیغ کی مکمل آزادی حاصل ہے، تاہم نفرت انگیز تقاریر، الزام تراشی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ،تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ نے محرم الحرام کو اتحاد، صبر اور قربانی کا مہینہ قرار دیتے ہوئے تمام شہریوں سے پرامن فضا کے قیام میں بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی ۔