اسلامی نظریاتی کونسل نے وی پی این کا استعمال غیر شرعی قرار دیدیا

وی پی این کا استعمال ممنوعہ اور بلاک  ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کیا جاتا ہے
 حکومت کو شرعی لحاظ سے اختیار ہے  وہ برائی اور برائی تک رسائی کا سدباب کرے:علامہ راغب نعیمی
لاہور(پبلک نیوز) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے وی پی این کا استعمال غیر شرعی قرار دیدیا۔چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کا کہنا ہے    حکومت کو شرعی لحاظ سے اختیار ہے کہ وہ برائی اور برائی تک رسائی کا سدباب کرے، غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کیلئے اقدامات کرنا شریعت سے ہم آہنگ ہے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے وی پی این کے حوالے سے سفارشات پیش کی تھیں جن پر عملدرآمد احسن اقدام ہے،   وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک ویب سائٹ تک رسائی حاصل کی جائے شرعاً ناجائز ہے۔چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کا کہنا ہے کہ   حکومت کا فرض ہے کہ ایسے ذرائع کے استعمال پر پابندی عائد کرے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں، وی پی این کا استعمال ممنوعہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کیا جاتا ہے جو حکومت کی طرف سے بلاک ہیں، وی پی این ایک تکنیکی ذریعہ ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی اصل شناخت اور مقام کو خفیہ رکھ سکتے ہیں۔شریعت کے اصولوں کے مطابق کسی بھی عمل کے جواز یا عدم جواز کا دارومدار اس کے مقصد اور طریقے پر ہے‘ وی پی این کا استعمال ''گناہ پر معاونت'' کے زمرے میں آتا ہے جو شریعت میں ممنوعہ ہے، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کرے بشرطیکہ وہ اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہوں، حکومت وقت کی جانب سے معاشرتی فائدے کے پیش نظر بلاک شدہ ویب سائٹ تک رسائی اسلامی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔