قرضوں سے ترقی نہیں ہوتی دعا ہے آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو شہبازشریف
آئی ایم ایف پروگراموں سے معیشت میں استحکام آتا ہے،ہمارے قرضے 77 سالوں میں بڑھے ہیں، آخری حد تک آپ کو قرضوں سے نجات دلائوں گا ‘نوجوان پاکستان کا سرمایہ ہیں
نوجوانوں کی بہترین ٹریننگ کیلئے اربوں ہوں یا کھربوں قدموں میں نچھاور کردوں گا‘ آخری دم تک آپ کے حقوق کی جنگ لڑتا رہوں گا: پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہب کے اجراء کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی ‘آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قرضوں سے ترقی نہیں ہوتی، آئی ایم ایف پروگراموں سے معیشت میں استحکام آتا ہیدعا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کا موجودہ پروگرام آخری پروگرام ہو، ہمارے قرضے 77 سالوں میں بڑھے ہیں، آخری حد تک آپ کو قرضوں سے نجات دلائوں گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہب کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کا دن منفرد خوشی کا دن ہے، بطور وزیراعلی پنجاب تعلیم، صحت اور نوجوانوں کیلئے ترجیحی اقدامات کئے، نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، ووکیشنل ٹریننگ دی جائے تو یہ ملک کا سرمایہ بنیں گے، بطور وزیراعلی پنجاب میرٹ کی بنیاد پر 4 لاکھ لیپ ٹاپ ہونہار طلبا میں مفت تقسیم کئے۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا جدید ترین ٹیکنالوجی کی متقاضی ہے، اگر مختلف ممالک تیل، گیس اور معدنیات سے مالا مال ہیں تو کروڑوں نوجوان پاکستان کا سرمایہ ہیں، نوجوانوں کی بہترین ٹریننگ کیلئے اربوں ہوں یا کھربوں قدموں میں نچھاور کردوں گا، سرمایہ نچھاور کریں گے تو پاکستان دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک بنے گا۔ان کا کہنا تھا کہ رانا مشہود کو پروڈکٹیو ایمپلائمنٹ کا ٹاسک دیا گیا، نوجوانوں کو خودمختار بنانے کیلئے درکار اخراجات فراہم کئے جائیں گے، ہمارے ٹریننگ سینٹرز میں بہترین ٹرینرز آنے چاہئیں، نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، انہیں بہترین ہنر سے نوازیں گے، ہنر مند نوجوانوں کی بدولت ملک کا مستقبل شاندار بنائیں گے۔وزیراعظم نے بتایا کہ قوم کو قرضوں کی زندگی سے جان چھڑانا ہوگی، کسان، صنعت کار اور نوجوان کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے، میں آخری دم تک آپ کے حقوق کی جنگ لڑتا رہوں گا، آخری حد تک آپ کو قرضوں سے نجات دلاں گا، پاکستان کے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے حصول کے قابل بنانا ہے، خادم بن کر پاکستان کی خدمت کرتا رہوں گا، وعدہ کرتا ہوں قوم کو مایوس نہیں کروں گا۔دریں اثناء اسلامی نظریاتی کونسل کی گولڈن جوبلی پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوے وزیراعظم نے کہا ہے کہ علمائے کرام اسلامی دفاعی ریاست کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ، اسلامی نظریاتی کو نسل اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھا رہی ہے ، نوجو انوں کو منفی پروپیگنڈے کی یلغار سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے بھی کونسل اپنا کردار ادا کرے ۔ انہوں نے کہا اسلامی نظریاتی کونسل نے شدت پسندی کے خلاف بند باندھا ۔ کونسل نے وطن عزیز کو نظریاتی تشخص دیا ۔ انیس سو تہتر کے آئین کے تحت کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اور اس کونسل نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا ۔ ملک میں اسلامی بینکاری نظام میں بھی کونسل کا کردار اہم ہے ۔ انہوں نے کہا انتہا پسندی ، شدت پسندی اور نفر تیں ہمارے مذہب کا حصہ نہیں ہیں ۔ علمائے کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجونوں کو بے راہ روی اور منفی پروپیگنڈے سے تھفظ فراہم کر یں ۔ اور قران وسنت کی روشنی میں معاشرے کی اصلاح کے لئے رہنمائی فراہم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران کسی فرقہ واریت میں ملوث نہیں ہیں ۔ ہم سب مل کے ملکی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں ۔ نفرتوں اور تقسیم کے روئیے اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں ۔