پنجاب اسمبلی :بجٹ منظور، اپوزیشن کی تمام تحاریک مسترد

صوبائی محصولات، پراپرٹی ٹیکس، ٹرانسپورٹ ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی 
احتجاج آئینی حق ، غلط کنڈکٹ پر رکنیت معطل کر سکوں گا، سپیکر کی رولنگ
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب کا مجموعی 5335 ارب کا بجٹ مالی سال برائے 2025-26 پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ گزشتہ روز بجٹ اجلاس میں 41 محکموں کے لئے 4306 ارب روپے سے زائد مطالبات زر کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی۔پنجاب اسمبلی نے فنانس بل 2025-26ء کی منظوری دیدی، بل کے مطابق پنجاب کے نئے بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ اپوزیشن کی تمام تحاریک مسترد کر دی گئیں۔موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برقرار رکھا گیا ہے، صوبائی محصولات، پراپرٹی ٹیکس، ٹرانسپورٹ ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں، کسی بھی شعبے صنعت، زراعت، صحت، تعلیم میں اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا، پنجاب کا مجموعی 5335 ارب کا بجٹ مالی سال برائے 2025-26ء کا ٹیکس فری بجٹ پنجاب اسمبلی سے منظور کر لیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیر پر 120 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جائے گی،پینشنرز کے لیے 462 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں،صحت کی سہولیات پر 258 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جائے گی،تعلیمی نظام کے لیے 137 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں جو خرچ کئے جائیں گے۔ پنجاب آٹزم سکول اور ریسورس سینٹر بل 2025، شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس ترمیمی بل 2025 ء ، ضروری اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول ترمیمی بل 2025ء ،پنجاب لیبر کورٹس بل 2025 ایوان میں پیش کئے گئے جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کرکے سپیکر نے دو ماہ تک رپورٹ مانگ لی جبکہ فنانس بل سمیت 3 بل ایوان میں کثرت رائے سے منظور کئے گئے۔اجلاس کے آغاز میں پوائنٹ آف آرڈر پر حکومتی رکن منور غوث سی سی ڈی کی مبینہ غیر قانونی کارروائی پر پھٹ پڑے، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سابق کونسلر کو سی سی ڈی کے ڈی ایس پی نے گرفتار کیا، اس کو ہتھکڑیاں لگا کر بازار میں گھمایا گیا، تذلیل کی گئی، اس کو تھپڑ مارے گئے اور ویڈیوز بنائی گئی ہیں، جس پر سپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ اگر ویڈیو بنائی گئی ہے تو یہ غیر قانونی ہے،ہائی کورٹ کے آرڈر کی بھی خلاف ورزی ہے،وزیر پارلیمانی امور اس معاملے کو دیکھیں، یہ اچھی روایت نہیں،سپیکر کا کہنا تھا کہ میں اس حکومت کو کامیاب حکومت مانوں گا جب یہ لوگوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھڑوائے گی۔وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اس حوالے سے پہلے ہی اس کوشش میں ہیں کہ لوگوں کوہتھیاروں سے پاک کیا جائے، 16جون کو اسمبلی میں ہونے والے شور شرابے کے معاملے پر سپیکر نے بجٹ سیشن کیلئے اپوزیشن رکن حسن ملک کی معطلی پر رولنگ پڑھ کر سنا دی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا 16جون کو اپوزیشن ممبران نے بجٹ تقریر کو روکنے کی کوشش کی، اپوزیشن رکن حسن ملک نے بجٹ کتاب وزیر خزانہ کو ماری، ویڈیو دیکھی تو معلوم ہوا یہ کوشش انہوں نے بار بار کی،جس کے باعث وزیر خزانہ کو تقریر روکنا پڑی، احتجاج آئینی حق ہے مگر ایوان پر قبضہ نہیں ہونے دوں گا، طاقت رکھتا ہوں غلط کنڈکٹ پر رکنیت معطل کر سکوں گا، ہائوس کی کارروائی روکنے کی کوشش کی تو یہ نہیں ہونے دوں گا۔ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ نے اجلاس آج بروز جمعہ 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔