قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری، دفاعی بجٹ سمیت تمام مطالبات زر پاس

دفاع کے لیے 400 ارب روپے سے زائد فنڈز کی منظوری، اپوزیشن کی کٹوتی تحریک پیش نہ ہوئی، قومی اسمبلی میں حکومت کو بڑا مالی ریلیف، اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی
اسلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے تحت مسلح افواج کے لیے 298 ارب روپے سے زائد کے بجٹ اور شعبہ دفاع کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر متفقہ طور پر منظور کر لیے۔ دفاعی بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی، جس کے باعث دفاعی بجٹ ایوان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔قومی اسمبلی نے مختلف وزارتوں اور ڈویڑنوں کے مجموعی طور پر 43 کھرب 85 ارب روپے سے زائد مالیت کے 88 مطالباتِ زر بھی
 کثرتِ رائے سے منظور کر لیے۔ ان مطالباتِ زر کے خلاف بھی کسی قسم کی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی۔ایوان نے دفاع اور دفاعی پیداوار کے لیے مجموعی طور پر 30 کھرب 69 ارب 35 کروڑ 58 لاکھ روپے کے سات مطالباتِ زر کی منظوری دی، جبکہ مواصلات کے لیے 125 ارب 72 کروڑ 36 لاکھ روپے، تعلیم کے لیے 192 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد اور آبی وسائل کے لیے 107 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر بھی منظور کیے گئے۔کابینہ سیکرٹریٹ کے لیے 35 ارب 38 کروڑ 69 لاکھ 82 ہزار روپے کے 10 مطالباتِ زر، خارجہ امور کے لیے 68 ارب 17 کروڑ 22 لاکھ روپے، قومی صحت کے لیے 53 ارب 28 کروڑ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 42 ارب 7 کروڑ روپے، منصوبہ بندی ڈویڑن کے لیے 37 ارب 21 کروڑ روپے اور صنعت و پیداوار کے لیے 29 ارب 53 کروڑ 96 لاکھ روپے کے مطالباتِ زر کی بھی منظوری دی گئی۔قومی اسمبلی نے اطلاعات و نشریات کے لیے 27 ارب 57 کروڑ 13 لاکھ روپے، تجارت کے لیے 27 ارب 99 کروڑ 89 لاکھ روپے، قانون و انصاف کے لیے 24 ارب 91 کروڑ روپے، ہاؤسنگ و تعمیرات کے لیے 22 ارب 31 کروڑ 99 لاکھ روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 19 ارب 54 کروڑ روپے اور اقتصادی امور کے لیے 15 ارب ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کے مطالباتِ زر کی بھی منظوری دے دی