ایرانی وزیر خارجہ: شوریٰ کی منظوری کے بعد IAEA سے معاہدہ معطل کرنا قانونی طور پر لازم ہو گیا

ایرانی وزیر خارجہ: شوریٰ کی منظوری کے بعد IAEA سے معاہدہ معطل کرنا قانونی طور پر لازم ہو گیا

تہران : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے درمیان معاہدے کی معطلی اب قانونی طور پر لازم ہو چکی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل کو شوریٰ نگہبان کی توثیق حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد ایرانی حکومت پر اس قانون پر عمل درآمد ضروری ہو چکا ہے۔

کیا کہا گیا؟
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا:"IAEA سے معاہدے کی معطلی اب قانونی طور پر ہم پر فرض ہے۔ ہم اس قانون کے پابند ہیں اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔"انہوں نے مزید کہا کہ:"ایران کا IAEA کے ساتھ تعاون اب ایک نئی شکل اختیار کرے گا، اور اس میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔"
پس منظر
ایرانی پارلیمنٹ نے حالیہ دنوں ایک بل منظور کیا تھا جس میں اس بات کی اجازت دی گئی کہ اگر مغربی طاقتوں کی جانب سے پابندیاں ختم نہ کی جائیں تو ایران، IAEA کے ساتھ رضاکارانہ تعاون کو محدود یا مکمل طور پر معطل کر سکتا ہے۔یہ بل ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ اور امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے تسلسل کے پس منظر میں منظور کیا گیا۔ اب جب کہ شوریٰ نگہبان نے اس بل کو توثیق دے دی ہے، تو یہ قانون کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔

ممکنہ اثرات
IAEA کی ایران میں جوہری تنصیبات تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کا عمل غیر شفاف ہو سکتا ہے۔ویانا مذاکرات پر اس فیصلے کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔مغربی طاقتوں اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی برادری ایران کو جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔