اسلام آباد: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر رافیل ماریانو گروسی نے آج وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی، جس میں جوہری توانائی کے پرامن استعمال سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کا IAEA کے کردار کو سراہنا
وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے جوہری توانائی کے فروغ میں IAEA کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، جوہری ٹیکنالوجی کو پائیدار ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے لیے پُرعزم ہے۔
جوہری ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں استعمال پر گفتگو
ملاقات کے دوران کینسر کی تشخیص اور علاج، زراعت، غذائی تحفظ، پانی کے انتظام، اور صنعتی ترقی جیسے شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
IAEA کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے IAEA کے ساتھ قریبی اور نتیجہ خیز شراکت داری قائم رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ IAEA کے تعاون سے پاکستان نے جوہری توانائی کی پیداوار، صنعت، صحت، زراعت، اور سماجی و اقتصادی ترقی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
IAEA کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم
وزیراعظم نے IAEA کے ساتھ مستقبل میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ جوہری ٹیکنالوجی کی مکمل صلاحیت کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
IAEA کے ڈائریکٹر جنرل کا پاکستان کے تعاون کو سراہنا
مسٹر رافیل ماریانو گروسی نے پاکستان کے دیرینہ تعاون اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں دلچسپی کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ IAEA پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔یہ ملاقات پاکستان اور IAEA کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔