تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی جنگ بندی یا حملوں میں وقفے کا معاہدہ نہیں ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور ابھی تک ان کے خاتمے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ:“اسرائیل کی جارحیت کے بعد ایران نے دفاعی اقدامات کیے، ہم نے کوئی جنگ شروع نہیں کی۔ اگر اسرائیل حملے روکتا ہے تو ہم بھی کارروائی روک سکتے ہیں۔”انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جنگ بندی کے حوالے سے صدر ٹرمپ یا دیگر عالمی قوتوں کی جانب سے کیے گئے دعوے یک طرفہ اور غیرحقیقی ہیں:“ایران نے جنگ بندی پر کوئی دستخط نہیں کیے اور نہ ہی کوئی عارضی وقفے کی بات ہوئی ہے۔ یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔”
ایران کے حملے کب تک جاری رہے؟
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، “اسرائیل کو سزا دینے کا عمل صبح 4 بجے تک جاری رہا”۔ادھر اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صبح 4 بجے کے بعد تہران نے میزائل حملے بند کر دیے، جسے بعض تجزیہ کار ممکنہ ‘خاموش جنگ بندی’ سے تعبیر کر رہے ہیں، تاہم ایران نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
جنگ بندی یا جنگ کا تسلسل؟
ایرانی مؤقف: کوئی معاہدہ نہیں، فیصلہ بعد میں ہوگا۔
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ: ایران نے 4 بجے کے بعد حملے روک دیے۔
عالمی ذرائع: قطر کے ذریعے ثالثی، لیکن ایران باضابطہ تصدیق سے گریزاں۔
تجزیہ:
ایران کے سخت مؤقف سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے باضابطہ اعلان سے قبل اسرائیل کے رویے کا جائزہ لینا چاہتا ہے۔ ایران کی یہ حکمت عملی "دفاعی جارحیت" کے اصول پر مبنی دکھائی دیتی ہے—یعنی جب تک اسرائیل باز نہیں آتا، ایران بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔