سعودی عرب میں نئے ہجری سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ کی روح پرور تبدیلی

سعودی عرب میں نئے ہجری سال کے آغاز پر غلافِ کعبہ کی روح پرور تبدیلی

نئے اسلامی سال 1447 ہجری کے آغاز پر خانہ کعبہ کو نیا غلاف پہنا دیا گیا، ایک روح پرور منظر جسے دنیا بھر کے مسلمان عقیدت و احترام سے دیکھتے ہیں۔

 کسوہ کی تبدیلی کا یہ مقدس عمل بدھ کو نمازِ عصر کے بعد شروع ہوا اور جمعرات کی صبح مکمل ہوا۔

غلافِ کعبہ کی تبدیلی کا طریقۂ کار
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیا کسوہ (غلاف کعبہ) چار برابر پٹیوں اور ستار الباب (دروازے کا پردہ) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر پٹی کو علیحدہ علیحدہ خانہ کعبہ کے بالائی حصے پر لایا جاتا ہے، جہاں پرانی پٹی اتار کر نئی لگائی جاتی ہے۔ یہ عمل چاروں اطراف سے مرحلہ وار مکمل کیا جاتا ہے۔سب سے پہلے خانہ کعبہ کے دروازے کا پردہ اتارا گیا جس کی لمبائی 6.35 میٹر اور چوڑائی 3.33 میٹر ہے۔

غلافِ کعبہ کی تیاری: 11 ماہ طویل روحانی سفر
نئے غلاف کی تیاری کنگ عبدالعزیز کسوہ کمپلیکس میں کی جاتی ہے جہاں یہ عمل سات مختلف مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں دھاگوں کو پانی کی فلٹریشن سے گزارا جاتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی آلودگی دور ہو۔ اس کے بعد خام ریشم کو اعلیٰ معیار کے سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے اور پھر اس کا کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔بعد ازاں، قرآنی آیات کی کڑھائی کے لیے خاص طور پر تیار کردہ خالص سونے اور چاندی کے دھاگوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تیار شدہ دھاگے جانچ کے بعد مخصوص کڑھائی مراکز کو منتقل کیے جاتے ہیں۔

غلافِ کعبہ: مقدس اعداد و تفصیلات
کسوہ کے ٹکڑے: 47
قرآنی آیات کی تعداد: 68
سونے کے تار: 24 قیراط
مجموعی وزن: 1415 کلوگرام
منتقلی کا طریقہ: غلاف کو مخصوص غلافوں میں لپیٹ کر مسجد الحرام پہنچایا جاتا ہے
عقیدت اور روحانیت کا منظر
غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے روح پرور مناظر کو لاکھوں افراد نے دنیا بھر میں مختلف پلیٹ فارمز پر دیکھا۔ خانہ کعبہ کی عظمت اور تقدس کو ظاہر کرنے والی اس تقریب نے دلوں کو گرما دیا اور نئے ہجری سال کے آغاز پر ایمان کو تازگی عطا کی۔